پی ٹی آئی برطانیہ نے فیلڈ مارشل سے متعلق تقریر سے اظہارِ لاتعلقی کا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) برطانیہ نے احتجاجی جلسے میں فیلڈ مارشل سے متعلق خاتون کی تقریر سے اظہار لاتعلقی کا اپنا بیان ڈیلیٹ کردیا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ میں احتجاج کے دوران خاتون کی تقریر سے اُن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیمارش برطانوی شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر احتجاج پر جاری کیا گیا۔
پی ٹی آئی برطانیہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ خاتون پارٹی کی عہدے دار بھی نہیں، خاتون کے خیالات، زبان، طرز گفتگو پارٹی کے موقف کی عکاسی نہیں کرتے۔
تاہم یہ ٹوئٹ اب پی ٹی آئی یوکے نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کردیا۔
خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان نے گزشتہ روز برطانوی حکومت کو خط لکھ کر اس کی سر زمین سے پاکستان میں دہشت گردی، تشدد اور عدم استحکام پیدا کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
حکومتِ پاکستان نے برطانوی حکومت سے منفی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے برطانوی ہوم آفس کو خط لکھا۔
ترجمان ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ متعلقہ مواد برطانوی پولیس کی جانب سے قانون کے مطابق جانچا جائے گا، قانون شکنی کا مواد سامنے آنے پر فوجداری تحقیقات شروع ہو سکتی ہیں۔
اس حوالے سے لکھے گئے خط کے مطابق پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایسی ویڈیو زیرِ گردش ہے جس میں آرمی چیف کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے، یہ مواد نہ بیان بازی اور نہ ہی سیاسی ہے، یہ واضح طور پر اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کی اعلیٰ فوجی شخصیت کے قتل پر اُکساتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک پلیٹ فارمز سے مسلسل انتشار اور تشدد کی کالز دی جارہی ہیں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانیہ قتل اور تشدد کی کالز دینے والوں کو شناخت اور تحقیقات کر کے ان افراد کے خلاف مقدمہ چلائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔