جرمنی نے سنگین جرائم میں ملوث ایک اور افغان تارک وطن کو ملک بدر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
جرمنی نے مسلح ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ایک افغان تارک وطن کو ملک بدر کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمن وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان تارکین وطن کو جرمن عوام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ملک بدر کیا گیا۔
وزارتِ داخلہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں مقیم غیر ملکی شہری اگر سنگین جرائم، خصوصاً پرتشدد کارروائیوں، مسلح ڈکیتی، منشیات فروشی یا منظم جرائم میں ملوث ہوں تو انہیں پناہ یا قیام کا حق حاصل نہیں رہتا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی پالیسی کے تحت مذکورہ افغان شہری کو عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملک بدر کیا گیا۔ آئندہ دنوں میں جرائم پیشہ مزید افغانیوں کی ملک بدری متوقع ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق 2018 سے اب تک 220 سے زائد افغان پناہ گزین مختلف جرائم میں ملوث ہونے پر جرمنی سے بے دخل کیے جا چکے ہیں۔
جن میں سے گزشتہ برس 2024 میں 28 افغان شہریوں کو جب کہ رواں برس میں اب تک 81 افغان باشندوں کو جرمنی سے ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
صرف جرمنی ہی نہیں دیگر یورپ ممالک میں بھی طالبان حکومت کے بعد سے افغانستان سے فرار ہوکر پہنچنے والے افغان تارکین وطن متعدد جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی یہی صورت حال ہے۔ افغان تارکین وطن پناہ دینے والے ممالک کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جرائم میں ملوث ملک بدر
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔