عمران خان نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کیس میں اپنے خلاف سنائے گئے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے اپیلیں تیار کر لی ہیں۔ یہ اپیلیں پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جائیں گی۔ مزید دریافت کریں کراچی بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے دائر کی جانے والی دونوں اپیلوں میں فیصلہ کالعدم قرار دینے کی درخواست کی جائے گی۔ اپیلوں کے متن میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے انعام اللہ شاہ اور وعدہ معاف گواہ کے بیانات پر انحصار کیا، جو ناقابلِ اعتبار تھے۔ استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا، اور ایک ہی جرم میں متعدد بار سزا نہیں دی جا سکتی۔ اسپیشل سینٹرل عدالت کو کیس کی سماعت کا اختیار نہیں تھا۔ اپیلوں کے متن میں مزید کہا گیا کہ صہیب عباسی کو غیر قانونی طور پرسلطانی گواہ بنایا گیا۔ سابق حکمران جوڑے نے بلغاری سیٹ توشہ خانہ قواعد کے مطابق اپنے پاس رکھا۔ مقدمہ بغیر تفتیش کے قائم کیا گیا اور یہ سیاسی انتقام کا حصہ ہے۔ درخواست گزار سرکاری ملازم کی تعریف میں نہیں آتے، لہٰذا ان کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔