پاک بحریہ کی 124ویں مڈشپ مین اور 32ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ تقریب
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
پاکستان نیول اکیڈمی، کراچی میں 124ویں مڈشپمین اور 32ویں شارٹ سروس کمیشن کورس (ایس ایس سی) کی کمیشننگ پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں 90 مڈشپ مین اور 34 ایس ایس سی کیڈٹس نے کامیابی کے ساتھ کورس مکمل کیا۔
اس موقع پر بحریہ بحرین کے کمانڈر، ریئر ایڈمرل احمد محمد ابراہیم البِن علی مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔ مہمان خصوصی کا استقبال چیف آف دی نیول اسٹاف، ایڈمرل نوید اشرف نے کیا۔
یہ بھی پڑگھیے: ترکیہ: پاکستان نیوی کے جہاز ’پی این ایس خیبر‘ کی کمیشننگ تقریب، رجب طیب اردوان کی خصوصی شرکت
مہمان خصوصی، جو خود پاکستان نیول اکیڈمی کے سابق طالب علم ہیں، نے اپنی مادر علمی میں کمیشننگ پریڈ کا جائزہ لینے پر فخر کا اظہار کیا اور پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ مہارت کو خطے کی ایک مضبوط قوت قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان نیوی کی دوستانہ ممالک کے کیڈٹس کو اعلیٰ معیار کی تربیت فراہم کرنے کی طویل روایات کو سراہا، جبکہ پریڈ میں بحرین، عراق، ریپبلک آف جیبوتی، سری لنکا اور ترکی کے کیڈٹس بھی شامل تھے۔
مہمان خصوصی نے پاکستان اور بحرین کے درمیان مضبوط تعلقات، مشترکہ اقدار اور باہمی ترقی کے عزم کو بھی دوبارہ اجاگر کیا۔ بعد ازاں، مہمان خصوصی نے کامیاب کیڈٹس کو انعامات بھی تقسیم کیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان نیوی، ایف بی آر اور کسٹمز کی کارروائیاں، اربوں روپے مالیت کی منشیات ضبط
مڈشپ مین محمد عزیر عباس کو مجموعی بہترین کارکردگی پر سوڈ آف آنر دیا گیا، جبکہ مڈشپ مین شہاب احمد کو اکیڈمی کا ڈِرک ملا۔ پاکستان کے آفيسر کیڈٹ عمر مختار اور عراق کے آفيسر کیڈٹ الدہابی فہد حسام فرید نے چیف آف دی نیول اسٹاف گولڈ میڈل جیتا، اور ایس ایس سی کورس کے آفيسر کیڈٹ سید سعد شاہد نے کمانڈنٹ گولڈ میڈل حاصل کیا۔ پروفیشنسی بینر کو کوارٹر ڈیک اسکواڈرن نے جیتا۔
اس تقریب میں فوجی افسران، معززین اور کیڈٹس کے والدین بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
pak navy بحری فوج بحریہ پاسنگ آؤٹ پاک نیوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بحری فوج بحریہ پاسنگ آؤٹ پاک نیوی پاکستان نیوی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔