آئین کی بالا دستی عملاً ختم،جمہوری راستے بند کیے جا رہے ہیں: ڈاکٹر اسامہ رضی
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا ہے کہ ملک میں رائج ظالمانہ جاگیردارانہ اور استحصالی نظام نے عوام کو محکوم اور غلام بنایا ہوا ہے، آزادی کے 78سالوں میں ایک دن بھی ہمیں آزاد و جمہوری ملک دیکھنا نصیب نہیں ہوا، ہم انگریز کی غلامی کے ایک نظام سے نکل کر دوسرے غلام نظام میں جکڑے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر اسامہ رضی کا کہنا تھا کہ ملک میں طاقتور لوگوں، جاگیرداروں اور نوابوں کے نظام کو قبول کر کے جمہور دشمن نظام کو ہم پر مسلط کیا گیا اور آج اسی وجہ سے ملک کو ایک ایسے نئے نظام کی ضرورت ہے جو عوام کو غلامی کے بجائے آزادی دے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”وہ بدل دو نظام ایک تحریک‘ ایک جدو جہد“ کے موضوع پر جماعت اسلامی ضلع ملیر کے تحت تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد بھارت میں تو جاگیرداری نظام کو ختم کر دیا گیا، پاکستان میں اس نظام کو برقرار رکھ کر ملک کو آزادی کے حقیقی سے محروم مقاصد اور انسانوں کی رائے کو کچل دیا گیا جس کے نتائج آج ملک کی سیاسی اور اقتصادی زبوں حالی کی شکل میں موجود ہیں۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انقلاب انبیاءؑ کی سنت ہے لہٰذا اس سنت کی پیروی کرتے ہوئے موجودہ گلے سڑے اور ظالمانہ نظام کو بدلنا ہر فردکا فرض ہے کیونکہ زمامِ کار جاگیرداروں اور بیوروکریسی سے عوام تک منتقل کیے بغیر انقلاب نہیں آسکتا اور تبدیلی کے لیے نظام بدلنا ہوگا، سچ کے حق میں گواہی دینا ہوگی اور جھوٹ کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوری راستے بند کیے جا رہے ہیں، آئین کی بالا دستی عملاً ختم ہو چکی ہے، اس صورتحال میں اصلاح معاشرہ کی جدو جہد ہر فرد پر لازم ہے، جماعت اسلامی ایک تنظیم ہی نہیں ایک تحریک ہے جو ذہنوں کی آبیاری اور فکر کو اُجاگر کرتی ہے اور دین کے جامع تصور کو پیش کرنا ہی تحریک کا اصل مقصد ہے، یہ ہی بات سید مودودیؒ نے ہمیں بتائی کہ دین ہم سے کیا چاہتا ہے۔ تربیتی اجتماع سے مولانا عبد الحق ہاشمی، مفتی امتیاز مروت، مولانا سعید دھامرہ، سید مفخر علی نے بھی خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نظام کو
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔