اب ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والے کھانوں کا ذائقہ بھی محسوس کیا جا سکے گا
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
جاپان میں ایک منفرد اور حیران کن ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے جس کی مدد سے ناظرین اب ٹی وی اسکرین پر دکھائے جانے والے کھانوں کا ذائقہ بھی محسوس کر سکیں گے۔
اس تجرباتی ڈیوائس ’’ٹیسٹ دی ٹی وی‘‘ (TTTV) کا نام دیا گیا ہے، جسے میجی یونیورسٹی کے پروفیسر ہومی میاشِتا نے اپنی تحقیقی ٹیم کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک عام فلیٹ اسکرین ٹی وی جیسا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اندر ایک خاص ذائقہ منتقل کرنے والا نظام نصب ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ نظام دس بنیادی ذائقوں—جیسے میٹھا، کھٹا، نمکین اور دیگر—کو مخصوص تناسب میں اسکرین پر منتقل کرتا ہے۔ ناظرین اس اسکرین پر زبان رکھ کر یا ہلکا سا چھو کر وہی ذائقہ محسوس کر سکتے ہیں جو اس وقت ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہو۔
پروفیسر ہومی میاشِتا کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ انسانی حسی تجربات کو نئی جہت دینا ہے۔ ان کے مطابق کورونا وبا کے دوران جب لوگ گھروں تک محدود تھے، تب یہ خیال پیدا ہوا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کے مختلف ذائقوں سے لوگوں کو جوڑا جا سکتا ہے۔
یہ نظام مستقبل میں صارفین کو گھر بیٹھے دنیا بھر کے کھانوں کا تجربہ کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔ اس کا ابتدائی پروٹوٹائپ گزشتہ سال تیار کیا گیا تھا، جبکہ اس کے کمرشل ورژن کی ممکنہ قیمت تقریباً ایک لاکھ جاپانی ین (تقریباً 639 امریکی ڈالر) بتائی جا رہی ہے۔ فی الحال یہ ڈیوائس عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں اور مزید جانچ اور بہتری کے مراحل سے گزر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات ٹی وی تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ مستقبل میں اسے آن لائن کھانا پکانے کی تربیت، ریستورانوں کی ورچوئل مارکیٹنگ اور ذائقے کی بنیاد پر فاصلاتی تعلیم میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔