بریڈ فورڈمیں احتجاج،عسکری قیادت کو دھمکی،پاکستان کا برطانیا سے شدید احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
سوشل میڈیا سرگرمیوں پر شدید تشویش ،ویڈیو بین الاقوامی قوانین اور برطانوی انسدادِ دہشت گردی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی قرار ،پی ٹی آئی سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور حامیوں نے مزید پھیلایا
ایک خاتون کی جانب سے انتہائی اشتعال انگیز زبان استعمال ،چند مظاہرین نے عاصم منیر کو بم دھماکے کے ذریعے قتل کی دھمکی دی،پاکستان کا برطانوی حکومت کے سامنے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار
برطانیا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے منسلک سوشل میڈیا سرگرمیوں پر شدید تشویش سامنے آئی ہے، جہاں ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف پرتشدد دھمکیوں کا اظہار کیا گیا ہے۔ویڈیو کو بین الاقوامی قوانین اور برطانوی انسدادِ دہشت گردی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق 23 دسمبر 2025 کو پی ٹی آئی برطانیہ کے ایک آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شیٔر کی گئی، جس میں برطانوی سرزمین پر موجود چند مظاہرین کو پاکستان کے فیلڈ مارشل کے خلاف بم دھماکے کے ذریعے قتل کی دھمکی دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک خاتون کی جانب سے انتہائی اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات کو نہ آزادی اظہار کے دائرے میں رکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی سیاسی اختلاف کہا جا سکتا ہے، بلکہ یہ براہ راست تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے کے زمرے میں آتا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ویڈیو کو پی ٹی آئی سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور حامیوں نے مزید پھیلایا، جس سے معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔ برطانیہ میں اس طرح کی دھمکی آمیز تقاریر کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2006 کے تحت سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔عالمی قوانین کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 تمام ریاستوں کو دہشت گردی، تشدد پر اکسانے اور اس کی معاونت روکنے کی پابند بناتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس واقعے کا تعلق انہی ذمہ داریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے برطانوی حکومت کے سامنے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو میں ملوث افراد کی شناخت، تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ذرائع کے مطابق یہ واقعہ برطانیہ کے لیے بھی ایک امتحان قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین، انسداد دہشت گردی ذمہ داریوں اور ذمہ دار ریاستی رویے پر کس حد تک عمل درآمد کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی