تھائی لینڈ اور کمبوڈیا فوری جنگ بندی پر متفق، ہفتوں سے جاری خونریز جھڑپیں بند
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے وزرائے دفاع نے مشترکہ سرحد پر ہونے والی تقریب میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کردیئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے آسیان (ASEAN) کے مبصرین تعینات کیے جائیں گے۔
علاوہ ازیں کسی بھی ممکنہ مسئلے کے حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطہ بھی برقرار رہے گا۔
فوری طور پر نافذ العمل جنگ بندی معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر قسم کے ہتھیاروں کے استعمال سے باز رہیں گے۔
گرفتار 18 کمبوڈیائی فوجیوں کو جنگ بندی برقرار رہنے کی صورت میں 72 گھنٹوں کے اندر واپس کیا جائے گا۔
دونوں ممالک اپنی موجودہ فوجی تعیناتی برقرار رکھیں گے تاہم کسی قسم کی مزید فوجی نقل و حرکت نہیں کی جائے گی۔
اشتعال انگیز اقدامات اور غلط معلومات کے پھیلاؤ سے گریز کیا جائے گا۔ شہریوں، شہری تنصیبات، انفراسٹرکچر اور فوجی اہداف پر بھی حملے بند کر دیئے جائیں گے۔
دونوں ممالک نے اس جنگ بندی کو انسانی جانوں کے تحفظ اور خطے میں استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
جنگ بندی کے بعد علاقے میں موجود صحافیوں نے بتایا کہ فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے تاہم نفاذ سے عین قبل شدید جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
جس سے معاہدے کی نازک حیثیت واضح ہوتی ہے اور اسی وجہ سے تاحال بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپسی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے معاہدے کو شہریوں کے لیے ریلیف اور دیرپا امن کی جانب مثبت قدم قرار دیا۔
چین، جاپان، یورپی یونین اور ملائیشیا نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر مکمل عملدرآمد کی امید ظاہر کی۔
یاد رہے کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک، سیکڑوں زخمی اور 5 لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہوگئے۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تنازع کی جڑیں ان کی 800 کلومیٹر طویل سرحد پر واقع متنازع علاقوں میں ہیں۔
ان علاقوں میں قدیم مندروں کی ملکیت اور نوآبادیاتی دور کی سرحدی حد بندیاں طویل عرصے سے اختلافات کا سبب بنی ہوئی ہیں۔
اتوار کو کمبوڈیا کے وزیر خارجہ چین کا دورہ کریں گے، جہاں تھائی اور چینی حکام کے ساتھ سہہ ملکی مذاکرات متوقع ہیں جن کا مقصد باہمی اعتماد سازی اور سرحدی امن کو مستحکم کرنا ہے۔
یاد رہے کہ اس قبل تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ بندی کرانے کا سہرا امریکی صدر نے لیا تھا تاہم جلد ہی دونوں ممالک میں پھر سے جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا دونوں ممالک کمبوڈیا کے کے درمیان
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔