تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے وزرائے دفاع نے مشترکہ سرحد پر ہونے والی تقریب میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کردیئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے آسیان (ASEAN) کے مبصرین تعینات کیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں کسی بھی ممکنہ مسئلے کے حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطہ بھی برقرار رہے گا۔

فوری طور پر نافذ العمل جنگ بندی معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر قسم کے ہتھیاروں کے استعمال سے باز رہیں گے۔

گرفتار 18 کمبوڈیائی فوجیوں کو جنگ بندی برقرار رہنے کی صورت میں 72 گھنٹوں کے اندر واپس کیا جائے گا۔

دونوں ممالک اپنی موجودہ فوجی تعیناتی برقرار رکھیں گے تاہم کسی قسم کی مزید فوجی نقل و حرکت نہیں کی جائے گی۔

اشتعال انگیز اقدامات اور غلط معلومات کے پھیلاؤ سے گریز کیا جائے گا۔ شہریوں، شہری تنصیبات، انفراسٹرکچر اور فوجی اہداف پر بھی حملے بند کر دیئے جائیں گے۔ 

دونوں ممالک نے اس جنگ بندی کو انسانی جانوں کے تحفظ اور خطے میں استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

جنگ بندی کے بعد علاقے میں موجود صحافیوں نے بتایا کہ فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے تاہم نفاذ سے عین قبل شدید جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

جس سے معاہدے کی نازک حیثیت واضح ہوتی ہے اور اسی وجہ سے تاحال بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپسی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے معاہدے کو شہریوں کے لیے ریلیف اور دیرپا امن کی جانب مثبت قدم قرار دیا۔

چین، جاپان، یورپی یونین اور ملائیشیا نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر مکمل عملدرآمد کی امید ظاہر کی۔

یاد رہے کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک، سیکڑوں زخمی اور 5 لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہوگئے۔

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تنازع کی جڑیں ان کی 800 کلومیٹر طویل سرحد پر واقع متنازع علاقوں میں ہیں۔

ان علاقوں میں قدیم مندروں کی ملکیت اور نوآبادیاتی دور کی سرحدی حد بندیاں طویل عرصے سے اختلافات کا سبب بنی ہوئی ہیں۔

اتوار کو کمبوڈیا کے وزیر خارجہ چین کا دورہ کریں گے، جہاں تھائی اور چینی حکام کے ساتھ سہہ ملکی مذاکرات متوقع ہیں جن کا مقصد باہمی اعتماد سازی اور سرحدی امن کو مستحکم کرنا ہے۔

یاد رہے کہ اس قبل تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ بندی کرانے کا سہرا امریکی صدر نے لیا تھا تاہم جلد ہی دونوں ممالک میں پھر سے جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔

 

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا دونوں ممالک کمبوڈیا کے کے درمیان

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم