دنیا کے وہ ممالک جہاں شہریت حاصل کرنا نسبتاً آسان
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: دوسری شہریت، بہتر ویزا فری سفری سہولت یا نئی زندگی کی تلاش میں افراد کے لیے دنیا کے چند ممالک شہریت کے حصول کے آسان مواقع فراہم کر رہے ہیں۔حالیہ رپورٹس کے مطابق بعض ممالک نے غیر ملکی شہریوں کے لیے شہریت کے قوانین اور طریقہ کار کو نسبتاً سادہ بنا دیا ہے۔
ڈومینیکا کم لاگت سٹیزن شپ بائی انویسٹمنٹ پروگرام کے باعث نمایاں ہے، جہاں چند ماہ میں شہریت حاصل کی جا سکتی ہے۔ آئرلینڈ آئرش نسل رکھنے والے افراد کو نسب کی بنیاد پر شہریت دیتا ہے، جبکہ ترکی میں 4 لاکھ ڈالر کی پراپرٹی خریدنے پر شہریت دی جاتی ہے۔
مسجدالحرام میں خودکشی کی کوشش ناکام بنانے والا رضا کون نکلا؟
پرتگال کے گولڈن ویزا پروگرام کے تحت سرمایہ کاری کے ذریعے یورپی شہریت حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ وانواتو میں دو ماہ سے کم عرصے میں شہریت ممکن ہے۔ اٹلی میں 2025 کے بعد شہریت بذریعہ نسب والدین یا دادا دادی تک محدود کر دی گئی ہے۔
ان ممالک کی شہریت ویزا فری سفر، دوہری شہریت اور بہتر عالمی سہولیات تک رسائی فراہم کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔