دنیا کے وہ ممالک جہاں شہریت حاصل کرنا نسبتاً آسان
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: دوسری شہریت، بہتر ویزا فری سفری سہولت یا نئی زندگی کی تلاش میں افراد کے لیے دنیا کے چند ممالک شہریت کے حصول کے آسان مواقع فراہم کر رہے ہیں۔حالیہ رپورٹس کے مطابق بعض ممالک نے غیر ملکی شہریوں کے لیے شہریت کے قوانین اور طریقہ کار کو نسبتاً سادہ بنا دیا ہے۔
ڈومینیکا کم لاگت سٹیزن شپ بائی انویسٹمنٹ پروگرام کے باعث نمایاں ہے، جہاں چند ماہ میں شہریت حاصل کی جا سکتی ہے۔ آئرلینڈ آئرش نسل رکھنے والے افراد کو نسب کی بنیاد پر شہریت دیتا ہے، جبکہ ترکی میں 4 لاکھ ڈالر کی پراپرٹی خریدنے پر شہریت دی جاتی ہے۔
مسجدالحرام میں خودکشی کی کوشش ناکام بنانے والا رضا کون نکلا؟
پرتگال کے گولڈن ویزا پروگرام کے تحت سرمایہ کاری کے ذریعے یورپی شہریت حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ وانواتو میں دو ماہ سے کم عرصے میں شہریت ممکن ہے۔ اٹلی میں 2025 کے بعد شہریت بذریعہ نسب والدین یا دادا دادی تک محدود کر دی گئی ہے۔
ان ممالک کی شہریت ویزا فری سفر، دوہری شہریت اور بہتر عالمی سہولیات تک رسائی فراہم کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔