ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ شمائلہ عمران کی تدفین کراچی میں کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
تصویر: این این آئی
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ شمائلہ فاروق کی نماز جنازہ کراچی کی رحمانیہ مسجد میں ادائیگی کے بعد سوسائٹی قبرستان میں تدفین کردی گئی۔
ایم کیو ایم کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ شمائلہ عمران فاروق کی نماز جنازہ رحمانیہ مسجد طارق روڈ پر ادا کی گئی۔
ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ شمائلہ عمران فاروق کینسر کے باعث لندن کے اسپتال میں زیر علاج تھیں۔
اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال، فاروق ستار، انیس قائم خانی سمیت دیگر موجود تھے۔
نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مرحومہ کی تدفین سوسائٹی قبرستان میں کردی گئی۔
گزشتہ روز شمائلہ عمران فاروق کی میت لندن سے استنبول کے راستے کراچی پہنچائی گئی۔
شمائلہ عمران فاروق 19 دسمبر کو لندن کے مقامی اسپتال میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔
خیال رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے ایجویئر، برطانیہ میں ہونے والے بہیمانہ قتل کے ٹھیک 11 سال بعد 18 ستمبر 2021ء کو ان کی بیوہ شمائلہ عمران فاروق کو لندن کے ایک اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔
شمائلہ عمران نے کہا کہ کینسرکی مریضہ ہوں، دو بیٹوں کےساتھ ایک کمرے کے فلیٹ میں رہنے پر مجبور ہوں، کہاں ہیں ایم کیو ایم والے جو شہدا کی فیملی کو بھول گئے ہیں۔
’جیو نیوز‘ کی خبر میں انکشاف کیا گیا تھا کہ عمران فاروق کی بیوہ بولنے سے قاصر تھیں، ان کے بائیں کان کی قوت سماعت ختم ہو گئی تھی اور نظامِ ہضم شدید طور پر متاثر تھا۔
شمائلہ اور ان کے 2 بیٹوں عالی شان فاروق اور وجدان فاروق کو ایم کیو ایم لندن ونگ، اس کے پاکستان کے دھڑوں، لندن یا پاکستان کے کسی بھی رہنما بشمول وہ لوگ جو پاکستان میں وفاقی حکومت کا حصہ ہیں، کسی نے بھی مدد فراہم نہیں کی۔
2020ء میں پاکستان کی ایک عدالت نے ایم کیو ایم کے 3 کارکنوں خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو 2010ء میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی اور اسکاٹ لینڈ یارڈ نے فائل بند کر دی تھی لیکن شمائلہ عمران فاروق اور ان کے 2 بیٹوں کے لیے زندگی پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گئی تھی۔
شمائلہ کو درپیش بیماریوں میں چوتھے مرحلے کا کینسر شامل تھا جبکہ انہیں 16 ستمبر 2010ء کی شام لندن میں اپنے شوہر کے قتل کا صدمے بھی تھا، جس کے بعد ان کی حالت خراب ہو گئی تھی۔
لندن متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق.
شمائلہ کے خاندان کے قریبی ذرائع نے بتایا تھا کہ ایم کیو ایم لندن نے شمائلہ اور ان کے بیٹوں کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ بند کر دیا تھا، انہوں نے 1 سال سے زیادہ عرصے سے بات نہیں کی تھی اور ان کے بیٹوں کو کسی قسم کی مالی مدد فراہم نہیں کی گئی تھی۔
شمائلہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا تھا کہ کینسر کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے میں تنہا رہ گئی ہوں، مجھے اور میرے بیٹوں کو بھلا دیا گیا ہے۔
کچھ سال قبل خبر آئی تھی کہ ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ ایک گروسری شاپ کے اوپر چھوٹے سے ایک بیڈروم کے فلیٹ میں رہتی ہیں، جو مقامی کونسل نے فراہم کیا ہے۔
عمران فاروق قتل کیس50 سالہ ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010ء کو لندن میں ان کی رہائش گاہ کے باہر قتل کیا گیا تھا، ان کے قتل کا مقدمہ پاکستان میں بھی چلتا رہا، جب کہ لندن کی اسکاٹ لینڈ یارڈ اب تک ان کے قاتل پکڑنے میں ناکام ہے۔
ایف آئی اے نے 2015ء میں عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبہے میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کے دیگر سینئر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
کیس میں محسن علی سید، معظم خان اور خالد شمیم کو بھی قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک اور ملزم کاشف خان کامران کی موت واقع ہو چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رہنما ڈاکٹر عمران فاروق ڈاکٹر عمران فاروق کی شمائلہ عمران فاروق ایم کیو ایم کے اور ان کے فاروق کو گیا تھا گئی تھی لندن کے کے قتل کے بعد
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔