ہم ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے کے قائل نہیں لیکن حکومت بھی تو بندے کا پتر بنے، مولانا فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
ملتان میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمیں شدت پسند کہا جاتا ہے، مدرسہ شدت پسندی کا سبب نہیں ہے اور نہ ہی انتہا پسندی کا سبب ہے، کہا جاتا ہے مدرسے انتہا پسندی شدت کا باعث بنتے ہیں، مدرسے سے نہیں تمہارے رویے سے شدت پیدا ہوتی ہے، مذہبی طبقہ کو اشتعال دلوایا جاتا ہے ریاست بھی اپنے رویوں میں تبدیلی لائے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آج ایک بار پھر مدارس کی بقا کا سوال پیدا ہوگیا ہے، عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں میں مدرسے کیخلاف ایک تسلسل ہے، اس بات پر متفق ہیں کہ ریاست کیخلاف ہتھیار نہ اٹھائے جائیں لیکن ریاست بھی اپنے رویوں میں تبدیلی لائے، علماء انبیاء کے وارث ہیں جمعیت کی پشت کو مضبوط بنانا ہوگا، ہم نے عملی میدان میں کام کرنا ہے گھروں میں بیٹھ کر کچھ نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ قاسم العلوم گلگشت ملتان میں فضلاء کنونشن سے خطاب کے دوران کیا۔
مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ ہمیں شدت پسند کہا جاتا ہے، مدرسہ شدت پسندی کا سبب نہیں ہے اور نہ ہی انتہا پسندی کا سبب ہے، ہم ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے کے قائل نہیں ہیں لیکن حکومت بھی تو بندے کا پتر بنے، آج ایک بار پھر مدارس کی بقا کا سوال پیدا ہوگیا ہے، عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں میں مدرسے کے خلاف ایک تسلسل ہے، ہمارے ساتھ مذاکرات ہوئے کہ اکتیس دسمبر 2027 تک سودی نظام ختم ہو جائے گا، 1860 کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن کا قانون بنایا گیا لیکن تاثر دیتے ہیں کہ مدرسے بغیر رجسٹریشن کے چل رہے ہیں، کہا جاتا ہے مدرسے انتہا پسندی شدت کا باعث بنتے ہیں، مدرسے سے نہیں تمہارے رویے سے شدت پیدا ہوتی ہے، مذہبی طبقہ کو اشتعال دلوایا جاتا ہے ریاست بھی اپنے رویوں میں تبدیلی لائے، ریاست سے توقع رکھتے ہیں کہ اعتدال کی طرف آئے جبکہ ستائیسویں ترمیم بغیر مشاورت کے ہوئی، اب ان کے پاس دو تہائی اکثریت کہاں سے آئی پہلے تو ہمارے ووٹوں پر منحصر تھے ہم اس جبر کی دو تہائی اکثریت اور جمہوریت کو نہیں مانتے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس ہوتا ہے کہ اسلامی ملک کا حکمران زنا کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے اور نکاح کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے، مدرسہ شریعت اور سیاست کا بتاتا ہے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے لیے قانون بنایا گیا، مدرسے کی رجسٹریشن میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے، مدرسوں کو بند کرنے کی بات کی جاتی ہے، اکابرین نے جو مدارس قائم کیے وہ علم کا عملی نمونہ ہیں، امریکہ اور مغربی دنیا مدارس کے خلاف بے ان کا تم پر دباو ہے کہ مدارس کو ختم کریں، جے یو آئی اور وفاق المدارس نے اپ کی اس خواہش کو ناکام بنا دیا ہے، ہم ریاست سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اعتدال کی طرف آئے، مدارس آپ کے خلاف نہیں اپ کے رویے مدرسوں کے خلاف ہیں، مدارس دینیہ کے تحفظ کے لیے ڈٹ کے کھڑے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پسندی کا سبب انتہا پسندی کہا جاتا ہے مدارس کی کے خلاف ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔