ہمارا ملک امریکا، اسرائیل اور یورپ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے، ڈاکٹر مسعود پزشکیان
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
اپنے ایک انٹرویو میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ایران میں اندرونی انتشار چاہتے ہیں، تاکہ ایران پر دوبارہ حملہ کرسکیں۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہماری یہ جنگ ایران، عراق جنگ سے بھی زیادہ پیچیدہ اور مشکل جنگ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا، اسرائیل اور یورپ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے، لیکن ایران اب فوجی لحاظ سے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک ایران کو جھکانا چاہتے ہیں، یہ لوگ ایران میں اندرونی انتشار چاہتے ہیں، تاکہ ایران پر دوبارہ حملہ کرسکیں۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہماری یہ جنگ ایران، عراق جنگ سے بھی زیادہ پیچیدہ اور مشکل جنگ ہے۔
خیال رہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب آئندہ پیر کو اسرائیلی وزیراعظم کی واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات متوقع ہے، جس میں ایران سے متعلق بات چیت بھی ہونے کا امکان ہے۔ رواں سال جون میں 12 روزہ فضائی جنگ کے دوران ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں میں تقریباً 1100 ایرانی شہری شہید ہوئے تھے، جن میں اعلیٰ فوجی کمانڈر اور جوہری سائنس دان بھی شامل تھے۔ اس کے جواب میں ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل حملوں سے اسرائیل میں 28 افراد ہلاک اور سینکڑوں ہوئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ میں ایران
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔