حیدرآباد ،ایس ایک سرکل ون ودیگر کی الوداعی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ایس ای سرکل ون سہیل احمد شیخ ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل ارشد شیخ اسسٹنٹ ٹیکنیکل کاشف میئو جنرل سیکرٹری ہائیڈرو یونین ورکرز فیصل قاضی کی نے ایس ڈی او میراں محمد شاہ کی ایس ڈی او صابر حسین ایس ڈی اور گاڑی کھاتہ عثمان یعقوب سے الوداعی ملاقات کی، دونوں ایس ڈی او کے جانب سے حیسکو میں دی جانے والی خدمات کو سہراتے ہوئے تعارف سرٹیفکیٹ اور سندھ کی روایت اجرک ٹوپی کا تحفہ پیش کیا، میراں محمد شاہ، ایس ڈی او صابر حسین ایس ڈی او گاڑی کھاتہ عثمان یعقوب کے تبادلے کے موقع پر ایس ای سرکل ون۔سہیل احمد شیخ ڈی ڈی ٹی ارشد شیخ نے الوداعی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں افسران نے محکمہ جاتی امور، درپیش چیلنجز اور عوامی خدمت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ایس ڈی او میراں محمد شاہ صابر حسین، عثمان یعقوب کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ تعیناتی میں دیانت داری اور محنت سے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر دونوں ایس ڈی او نے بھی تعاون اور حسنِ سلوک پر شکریہ ادا کیا اور نیک تمناں کا اظہار کیا۔ایس۔ای سرکل ون سہیل احمد شیخ نے صابر حیسن عثمان یعقوب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کی دعا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔