پی ٹی آئی کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جائے جو ایم کیو ایم کے ساتھ کیا گیا تھا، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسکرین گریپ—تصویر بشکریہ جیو نیوز
گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے ایم کیوایم رہنماؤں کے ہمراہ پریس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جائے جو ایم کیو ایم کے ساتھ کیا گیا تھا۔
کامران ٹیسوری نے چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ برطانیہ جیسے ملک میں ہمارے فیلڈ مارشل کےخلاف جو زبان استعمال کی گئی، یہ دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔
گورنر میں ہاؤس میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی بیرون ملک پاکستانیوں کو ورغلا رہی ہے، لوگ اس بیانیے سے دور رہیں، یہ بیانیہ نہیں چلے گا۔
گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے کہا ملیر کے نوجوان ترقی کی آواز پر باہر نکلے ہیں۔ ملیر میں ایم کیو ایم کے جلسے سے خطاب میں انکا کہنا تھا کہ ملیر کے لوگ اپنے اسپتالوں، اسکولوں اور سڑکوں کی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا برطانیہ میں مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ مذاکرات کے نام پر دکان کھول کر رکھی ہے۔
ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات بھی نہیں ہونے چاہئیں۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو شخصیت سے نکل کر عوام کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھانی ہے چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں۔
رہنما ایم کیو ایم نے بتایا کہ ہماری مستقل کوششوں سے خطیر رقم لاپتہ افراد کے گھرانوں کے لئے رکھی گئی ہے، لوگوں کو لاپتہ کرنے میں ملوث افراد کو سزائیں دلوانی چاہئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔