پی آئی اے، حافظ نعیم الرحمن کے سوالات
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251228-03-2
پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کی نجکاری ایک بار پھر قومی سطح پر سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران جماعت ِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے جن نکات کی نشاندہی کی ہے، وہ محض سیاسی بیان نہیں بلکہ حکومتی ملک دشمنی فیصلوں پر ایک کی طرف اشارہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی ائر لائن نے حالیہ برس میں 112 ارب روپے کی آمدن حاصل کی اور 10 ارب روپے منافع کمایا، تو پھر ایسے ادارے کو فروخت کرنے کی کیا منطق ہے جو خسارے سے نکل کر منافع میں آ چکا ہو؟ حافظ نعیم الرحمن کا یہ اعتراض بھی وزن رکھتا ہے کہ اگر ایک چھوٹے طیارے کی قیمت کم از کم 27 ارب روپے ہے تو محض 10 ارب روپے کے عوض قومی ائر لائن کو بیچ دینا دانشمندی نہیں بلکہ قومی اثاثے کی ارزاں فروشی کے مترادف ہے۔ ان کے بقول، اگر 335 ارب روپے کی بولی بھی لگتی تو بھی پی آئی اے کو فروخت نہیں کیا جانا چاہیے تھا، کیونکہ یہ محض ایک کاروباری ادارہ نہیں بلکہ پاکستان کا وقار اور ایک اسٹرٹیجک اثاثہ ہے۔ یہ امر بھی قابل ِ توجہ ہے کہ پی آئی اے کے پاس 78 لینڈنگ رائٹس موجود ہیں، جو کسی بھی ائر لائن کے لیے انتہائی قیمتی اثاثہ سمجھے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان اثاثوں کی حقیقی مالیت کا درست اندازہ لگایا گیا؟ یا ایک بار پھر عجلت، بدانتظامی اور کمزور گورننس نے قومی مفاد کو پس ِ پشت ڈال دیا؟ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ سرکاری ادارے چلانا اس کے بس میں نہیں، اس لیے نجکاری ناگزیر ہے۔ لیکن اگر یہی حکومت ایک منافع بخش ادارے کو بھی درست انداز میں چلانے کی اہل نہیں تو پھر گورننس کے دعوے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں؟ اصل مسئلہ نجی شعبہ نہیں، جیسا کہ حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا، بلکہ مسئلہ حکومتی نااہلی اور فیصلہ سازی کا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام سے دوچار ہیں۔ قومی اداروں کی فروخت وقتی مالی سہارا تو فراہم کر سکتی ہے اور یہاں تو وہ بھی نہیں ہے۔ مگر طویل المدتی طور پر یہ قومی خودمختاری اور معاشی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت جذبات سے نہیں، بلکہ شفافیت، مشاورت اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کرے، اور اس نج کاری کو منسوخ کیا جائے، کیونکہ قومی اثاثے بیچنا آسان، مگر دوبارہ حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن پی ا ئی اے ائر لائن ارب روپے
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔