عدالت عظمیٰ: آئندہ عدالتی ہفتے میں سماعت کیلیے 3 بینچز تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈ یسک) عدالت عظمیٰ پاکستان کے جاری کردہ ججز روسٹر اور کاز لسٹ کے مطابق پیر سے شروع ہونے والے عدالتی ہفتے میں مقدمات کی سماعت کیلیے 3 بینچز تشکیل دے دیے گئے۔ عدالت عظمیٰ کی تینوں رجسٹریز اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ایک ایک بینچ مقدمات کی سماعت کرے گا۔اسلام آباد پرنسپل سیٹ پر جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 2 رکنی بینچ مقدمات سنے گا۔ لاہور رجسٹری میں یکم اور 2 جنوری کو جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل بینچ مقدمات کی سماعت کرے گا۔کراچی رجسٹری میں جسٹس عرفان سعادت، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس شفیع صدیقی پر مشتمل 3 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عدالتی تعطیلات کے باعث آئندہ ہفتے صرف ارجنٹ نوعیت کے مقدمات کی سماعت کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مقدمات کی سماعت عدالت عظمی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔