توہین رسالت میں ملوث ملزمان کو بری کردینا قابل مذمت ہے، شجاع الدین شیخ
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (صباح نیوز) لاہور ہائی کورٹ کا واضح شواہد اور ثبوتوں کے باوجود بدترین توہین رسالت اور مقدسات کی توہین میں ملوث 5افراد کو بری کر دینا قابل مذمت ہے۔ ہر شعبہ سے متعلق مسلمانان پاکستان کا فرض ہے کہ وہ حرمت رسولؐ اور مقدسات پر پہرہ دیں۔ ان خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیرشجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم اسلامی ملک بھر میں منعقدہ حرمت رسولؐ و مقدسات مشاورتی اجلاسوں کی تائید کرتی ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر بدترین توہین رسالت، قرآن و مقدسات کے مرتکب افراد اور ان کے پشتی بانوں کو روکنا اور جرم ثابت ہونے پر مجرموں کو قرار واقع سزا دینا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ نے توہین رسالت اور مقدسات میں ملوث 5 افراد کو جرم کے واضح ثبوت ہونے کے باوجود بری کر دیا، جس کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ تنظیم اسلامی بھی مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی استعداد کے مطابق اس فیصلہ کی مذمت اور حرمت رسولؐ و مقدسات کی حفاظت کیلیے اپنا حصّہ ڈال رہی ہے۔ امیرتنظیم نے کہا کہ ہمارے نزدیک اس بدترین توہین رسالت، توہین قرآن و دیگر دینی مقدسات کے ساتھ ساتھ ملک میں رائج سودی معیشت اور معاشرتی و خاندانی نظام کو تہ و بالا کرنے کی سازشوں کے سدباب کیلیے بھی علماء کرام، مشائخ اور دینی جماعتیں متحد ہو کر لائحہ عمل ترتیب دیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حکمرانوں، ریاستی اداروں اور عدلیہ کو صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: توہین رسالت
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔