میہڑ،مختار سندھی کی کتاب،سندھی معاشرہ اور وڈیرہ شاہی رہنمائی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251228-11-5
میہڑ (نمائندہ جسارت) نوجوان قلمکار مختار سندھی کی تصنیف کردہ کتاب ‘‘سندھی سماج اور وڈیرا شاہی’’ کی رسمِ رونمائی پریس کلب گراؤنڈ میہڑ میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں نامور ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور سماجی و سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری کامریڈ بخشل تھلھو، معروف ادیب نگر چنا، نوجوان قلمکار و رہنما کبیر بھیل، کامریڈ سلیم مگسی، عبدالرحمن قنبرانی، ایڈووکیٹ سعید پنہور، ایڈووکیٹ عابد کلہوڑو، آزاد انور کاندھڑو، نامور شاعر امتیاز عادل سومرو، ایڈووکیٹ منظور سوڈھر، عاجز اصغر سوڈھر، سرمد بروہی سمیت مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنما، کارکن، شاعر، ادیب اور صحافی شریک ہوئے۔تقریب کے دوران نوجوان لکھاری مختیار سندھی کی کتاب ‘‘سندھی سماج اور وڈیرا شاہی’’ کی باضابطہ رونمائی کی گئی۔تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کامریڈ بخشل تھلھو نے خطاب میں کہا کہ سندھ میں جاگیردارانہ نظام زبردستی مسلط کیا گیا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا نے بڑی حد تک اس نظام سے جان چھڑا لی ہے، لیکن سندھ میں تعلیم غیر جانبدار نہیں اور سائنسی بنیادوں پر تعلیم نہیں دی جا رہی۔ ایک سازش کے تحت سندھ پر جاگیرداروں کو مسلط کیا گیا ہے اور تمام افراد و ادارے ان کے تابع بنا دیے گئے ہیں۔ فرسودہ رسومات کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آصف زرداری صدر بننے کے باوجود زمینوں کے محتاج کیوں ہیں، اور کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ زمین پر موجود ہر چلنے پھرنے والی چیز پر قبضہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کی زمینیں کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر نیلام کی جا رہی ہیں جو سندھ کے حقوق پر ڈاکا ہے، جبکہ دیہات میں سہولیات نہ ہونے کے باعث لوگ ہجرت پر مجبور ہیں۔ انہوں نے عوام کو شعور دینے پر زور دیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی معروف ادیب و مترجم نگر چنا نے کہا کہ ادب ایک وسیع میدان ہے جہاں سماج کی عکاسی ہوتی ہے۔ نئے لکھنے والوں کو دنیا کے ادیبوں اور لکھاریوں سے سیکھنا چاہیے کیونکہ سیکھنے کا میدان بہت وسیع ہے۔ انہوں نے سندھی ادبی سنگت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنا اصل کردار کھو چکی ہے اور نئے لکھاریوں کی اصلاح کے لیے ادارے باقی نہیں رہے۔ ان کے مطابق ادبی سنگت اب صرف ثقافت کے محکمے سے بیمار ادیبوں کے لیے فنڈز لینے تک محدود ہو گئی ہے، جبکہ ادیب سردار شاہی سوچ کے پیروکار بنتے جا رہے ہیں۔ ادب انسانی زندگی اور سماج کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ادارے ختم ہو چکے ہیں اور سماج کے ‘‘طبیب’’ باقی نہیں رہے۔ کہانی نویسی کی ہمیشہ گنجائش رہتی ہے کیونکہ کہانی دکھ، درد اور تکلیف کی عکاسی ہوتی ہے۔نوجوان لیکھک کبیر بھیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سجادہ نشینی کا دور ہے اور سندھی سماج کو درپیش مسائل کے حل کے لیے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔