Express News:
2026-06-03@03:07:31 GMT

پاکستانی سماج: خوف، خاموشی اور امید… حل کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

پاکستانی سماج اس وقت ایک عجیب نفسیاتی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ یہ کیفیت نہ مکمل خوف ہے نہ مکمل خاموشی اور نہ ہی خالص امید بلکہ ان تینوں کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔

گلیوں، بازاروں، دفاتر اور گھروں میں باتیں ہوتی ہیں مگر آہستہ آواز میں۔ سوال ذہنوں میں ہیں مگر زبان پر آنے سے پہلے خود ہی دم توڑ دیتے ہیں۔

خوف آج پاکستانی سماج کا سب سے طاقتور مگر غیرمرئی عنصر بن چکا ہے۔ یہ خوف کسی ایک واقعے، ادارے یا شخصیت کا نہیں بلکہ غیریقینی مستقبل کا ہے۔

روزگار کے عدم تحفظ کا خوف، اظہارِ رائے کے نتائج کا خوف، یہی خوف رفتہ رفتہ خاموشی میں ڈھل جاتا ہے۔ ایک ایسی خاموشی جو احتجاج نہیں بلکہ مجبوری کی علامت ہے۔

خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی لیکن جب خاموشی معمول بن جائے تو سماج کی فکری سانس رکنے لگتی ہے۔ آج کا پاکستانی شہری حالات پرتبصرہ تو کرتا ہے، مگر بند کمروں میں۔

سوشل میڈیا پر غصہ ہے، طنز ہے، چیخ ہے مگر حقیقی مکالمہ ناپید۔ ہم بولتے ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں، یا شایدہم یہ سمجھ چکے ہیں کہ سننے کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

اس کے باوجود، اس دھند میں ایک چراغ ابھی بجھا نہیں اور وہ ہے امید۔ یہ امید نوجوانوں کی آنکھوں میں ہے، جو مایوسی کے باوجود سوال کرنا چاہتے ہیں۔

یہ امید ان اساتذہ، صحافیوں، ڈاکٹروں اور سرکاری ملازمین میں ہے جو محدود وسائل کے باوجود اپنا کام دیانت داری سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ امید اس ماں میں ہے جو مہنگائی کے باوجود بچوں کے لیے بہتر مستقبل کاخواب دیکھتی ہے۔

پاکستانی سماج کی اصل طاقت اس کی برداشت نہیں بلکہ اس کی یادداشت ہے۔ ہم نے اس سے زیادہ مشکل ادوار دیکھے ہیں مگر ہر بار سنبھلے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ حالات خراب ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم انھیں بہتر بنانے کے لیے اجتماعی شعور پیدا کر پا رہے ہیں یا نہیں؟

قومیں نعروں سے نہیں، سچ بولنے کی جرأت سے آگے بڑھتی ہیں۔ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، اور سوال بغاوت نہیں ہوتے۔ اگر پاکستانی سماج خوف سے خاموشی کی طرف جا رہا ہے تو اسے امیدکی طرف واپس لانا بھی اسی سماج کے باشعور طبقے کی ذمے داری ہے۔

امید کوئی معجزہ نہیں، یہ ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے پاکستانی سماج کو ایک بار پھر خود سے مکالمہ شروع کرنا ہوگا، بے خوف اورباوقار انداز میں۔

ہم پاکستانی جس کیفیت سے دوچار ہیں، یہ کیفیت کوئی انوکھی یا صرف پاکستانی سماج تک محدود نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی قومیں ایسے ادوار سے گزری ہیں جہاں خوف نے مکالمے کو دبا دیا اور خاموشی نے اجتماعی شعور کو مفلوج کر دیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی ایک ایسی ہی نفسیاتی شکست سے دوچار تھا۔ خوف، شرمندگی اور عدمِ اعتماد نے پورے سماج کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔

جرمن معاشرے نے اس کیفیت سے نکلنے کے لیے سچ کا سامنا کرنے اور ادارہ جاتی اصلاحات کا راستہ اختیار کیا۔ تعلیمی نصاب، آزاد میڈیا اور شفاف عدالتی نظام کو بحالی کا مرکز بنایا گیا۔

اسی طرح جنوبی افریقہ نسلی امتیاز (Apartheid) کے خاتمے کے بعد خوف اور انتقام کے دہانے پر کھڑا تھا۔ وہاں Truth and Reconciliation Commission کے ذریعے مکالمے کو فروغ دیا گیا، سچ بولا گیا، سنا گیا اور برداشت کیا گیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ خاموشی ٹوٹی اور امید نے اجتماعی صورت اختیار کی۔

لاطینی امریکا کے کئی ممالک، خصوصاً چلی اور ارجنٹائن، فوجی آمریتوں کے بعد اسی سماجی جمود سے گزرے۔ وہاں صحافت، جامعات اور سول سوسائٹی نے مل کر خوف کو سوال میں بدلا۔

اختلاف رائے کو ریاست دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ تسلیم کیا گیا۔ ان تمام مثالوں میں ایک قدر مشترک تھی: اداروں کی مضبوطی، آزاد مکالمہ اور عوامی اعتماد کی بحالی۔ قومیں تبھی آگے بڑھتی ہیں جب وہ اپنے شہریوں کو بولنے، سننے اور اختلاف کرنے کا محفوظ ماحول فراہم کرتی ہیں۔

پاکستان کے لیے سبق یہی ہے کہ خوف کو قانون سے، خاموشی کو مکالمے سے اور مایوسی کو امید کے قابلِ عمل راستوں سے بدلا جائے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جب ریاست اور سماج ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ ہم سفر ہوں تو اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، روشنی اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستانی سماج کے باوجود نہیں بلکہ ہیں مگر کے لیے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار