4 دن کے تنازع میں پاکستان کی کارکردگی ٹیسٹ ہوئی، کسی کو صلح صفائی کا نہیں کہا، 7 طیارے گرائے: اسحاق ڈار کی خارجہ پالیسی پر میڈیا کو بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اللّٰہ نے پاکستان کو عالمی برادری میں بہت پذیرائی دی ہے ۔ جب وزیراعظم نے حلف اٹھایا تھا تو پاکستان سفارتی سطح پر تنہائی کے شکار ملک کے طور پر جانا جاتا تھا۔ 4 دن کے تنازع میں پاکستان کی کارکردگی ٹیسٹ ہوئی، کسی کو صلح صفائی کا نہیں کہا، 7 طیارے گرائے۔
خارجہ پالیسی پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ یو اے ای کے تعاون کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یو اے ای فوجی فاؤنڈیشن کے کچھ شیئرز لے گا اور یہ لائبلیٹی ختم ہوگی۔ جنوری کے 2 ارب کے رول اوور پر بھی بات ہوئی کوشش ہوگی کہ وہ اس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ یو اے ای نے 3 ارب ڈالرز دیئے تھے۔ ہمیں اب پاکستان کو معاشی قوت بنانا ہے، ہمارے جواب کے بعد مجھے امریکی وزیرخارجہ نے کال کی، وزیراعظم شہباز شریف ملک کو معاشی طور پر بھی مستحکم بنانے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔
جدہ ایئرپورٹ پر پی آئی اے کی 2 ایئرہوسٹس کے درمیان ہاتھا پائی
’’جنگ ‘‘ کے مطابق نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ساؤتھ ایشیا ءمیں 4 دن کے تنازع میں پاکستان کی کارکردگی ٹیسٹ ہوئی، ہم نے کسی کو صلح صفائی کا نہیں کہا، ہم نے ان کے 7 طیارے گرائے۔نورخان ایئربیس پر حملہ بھارت کی بڑی غلطی تھی، پاکستانی افواج نے بھارت کا غرور خاک میں ملایا، 9 مئی کی رات وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت فیصلے ہوئے۔پاکستان میں 36 گھنٹوں میں 80 ڈرون بھیجے گئے، ہم نے 79 ڈرون مار گرائے، ایک ڈرون نے ایک فوجی تنصیب پر تھوڑا نقصان کیا اور ایک بندہ زخمی ہوا۔
نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یو اے ای صدر نے وزیراعظم سے اس سال پاکستان دورے کا وعدہ کیا تھا، یو اے ای صدر کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی شعبوں پر گفتگو ہوئی۔ آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق سعودی عرب نے ہمیں سپورٹ کیا، 4 ارب ڈالر زچین نے پاکستان میں جمع کرائے، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوا۔
تائیوان میں شدید زلزلے کے جھٹکوں سے عمارتیں لرز اٹھیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان کی یو اے ای
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔