امریکا کی شمال مشرقی ریاستیں برف میں منجمد، ہزاروں پروازیں منسوخ، ہنگامی حالت نافذ
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
نیویارک:
امریکا کی شمال مشرقی ریاستیں شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں آ گئی ہیں، جس کے باعث نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔
نیویارک، نیوجرسی اور کنیکٹی کٹ میں سڑکیں برف کی موٹی تہہ سے ڈھک گئیں جبکہ سرد ہواؤں اور برفباری نے حدِ نگاہ کو انتہائی کم کر دیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق نیویارک سٹی کے مشہور سینٹرل پارک میں 4.
شدید موسم کے باعث فضائی آپریشن بھی متاثر ہوا اور مختلف ایئرپورٹس پر 2100 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
مزید پڑھیںآسٹریلیا کے متعدد علاقوں میں دہائیوں بعد غیرمعمولی برف باری
برفانی طوفان کی شدت کے پیش نظر نیوجرسی میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ نیشنل ویدر سروس نے نیویارک اسٹیٹ اور کنیکٹی کٹ میں برفانی اور موسمِ سرما کے طوفان کی باقاعدہ وارننگ جاری کر دی ہے۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نیویارک کے گورنر نے بھی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔
حکام نے نیویارک، نیوجرسی اور کنیکٹی کٹ کے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔
ریسکیو اور میونسپل ادارے سڑکوں کی صفائی اور ہنگامی اقدامات میں مصروف ہیں، تاہم موسمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ گھنٹوں میں مزید برفباری صورتحال کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔