data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شامل کی جانے والی دو نئی ٹیموں کی فروخت کے عمل میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے بولی دینے والی پارٹیوں کی مکمل جانچ پڑتال مکمل کرلی ہے، اس مرحلے پر بولی دینے والوں کی مالی حیثیت، انتظامی صلاحیت اور ٹیم چلانے کی اہلیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ صرف سنجیدہ اور اہل سرمایہ کار ہی اگلے مرحلے تک پہنچیں۔

پی سی بی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دو نئی فرنچائزز کے لیے دنیا کے مختلف ممالک سے مجموعی طور پر 12 بولیاں موصول ہوئیں۔ بولی کمیٹی نے ان تمام درخواستوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جس میں مالی ریکارڈ، اسپورٹس مینجمنٹ کا تجربہ اور قانونی امور کو دیکھا گیا،  اس جانچ پڑتال کے بعد 10 پارٹیوں کو اہل قرار دیا گیا جبکہ 2 بولیاں مقررہ معیار پر پوری نہ اترنے کے باعث مسترد کر دی گئیں۔

بورڈ کے مطابق جن 10 پارٹیوں کو اہل قرار دیا گیا ہے وہ اب نیلامی کے مرحلے میں حصہ لے سکیں گی، جہاں مالی بولی کے ذریعے دو نئی ٹیموں کے مالکان کا فیصلہ ہوگا، اس طریقۂ کار کا مقصد پی ایس ایل کے معیار، شفافیت اور طویل المدتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی 8 جنوری 2026 کو اسلام آباد میں ہوگی۔ نیلامی کا انعقاد جناح کنونشن سینٹر میں کیا جائے گا۔ نیلامی میں کامیاب ہونے والی پارٹیاں نئی ٹیموں کے لیے راولپنڈی، حیدر آباد، فیصل آباد، گلگت، مظفرآباد اور سیالکوٹ میں سے کسی ایک شہر کا انتخاب کر سکیں گی۔

پی سی بی کے مطابق دو نئی ٹیموں کی شمولیت سے پی ایس ایل مزید مضبوط ہوگی، لیگ میں مقابلے کا معیار بہتر ہوگا اور مختلف شہروں کے شائقین کو اعلیٰ سطح کی کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس اقدام کو ملکی کرکٹ کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دو نئی ٹیموں کی پی ایس ایل پی سی بی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا