ہمارا ملک امریکا، اسرائیل اور یورپ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے: ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے، تاہم اب ایران فوجی اعتبار سے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا، اسرائیل اور یورپ ایران کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں اور ملک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایران پر دوبارہ حملے کا جواز بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال ایران۔عراق جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل نوعیت کی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آئندہ پیر کو اسرائیلی وزیراعظم کی واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات متوقع ہے، جس میں ایران سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میں 12 روزہ فضائی جنگ کے دوران ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں میں تقریباً 1100 ایرانی شہری جاں بحق ہوئے تھے، جن میں اعلیٰ فوجی کمانڈر اور جوہری سائنس دان بھی شامل تھے۔ اس کے جواب میں ایران کے میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں 28 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔