پاکستان کا ڈیجیٹل معیشت اور بٹ کوائن ٹیکنالوجی کی جانب مضبوط قدم؛ترقی کی نئی جہتیں روشن
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
پاکستان کے جدید ڈیجیٹل معیشت اور بٹ کوائن ٹیکنالوجی کی جانب بڑھنے کے نتیجے میں ملک میں ترقی کی نئی جہتیں روشن ہو رہی ہیں۔
کرپٹو ریگولیشن میں نمایاں پیش رفت کے باعث پاکستان عالمی سطح پر مرکز نگاہ بن گیا ہے۔ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ابوظبی بٹ کوائن کانفرنس 2025 میں خصوصی انٹرویو میں پاکستان کا کرپٹو وژن واضح کیا ہے۔
چیئرمین بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ پاکستان بٹ کوائن اور ڈیجیٹل اثاثوں کو محض سرمایہ کاری نہیں بلکہ مستقبل کے مالیاتی نظام کا بنیادی ستون تصور کرتا ہے۔ 240 ملین آبادی اور 70 فیصد نوجوان قوت رکھنے والا ملک فقط روایتی معیشت پر منحصر نہیں بلکہ ڈیجیٹل معیشت کے نئے ماڈل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہدف نوجوانوں کو صارف نہیں بلکہ ڈیجیٹل تخلیق کار اور نئی معیشت کے معمار بنانا ہے۔ پاکستان غیر منظم کرپٹو مارکیٹ کو عالمی معیار کے مطابق شفاف اور سرمایہ کار دوست نظام میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحات کر رہا ہے۔
پاکستانی معیشت ترقی کی طرف تیزی سے گامزن ، عالمی سطح پر اعتراف
بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان نےکرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے 3ستونوں پر مبنی ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا ہے۔ ریگولیٹری فریم ورک کی بنیاد وضاحت، مرحلہ وار نفاذ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے موثر نگرانی پر رکھی گئی ہے۔ پاکستان میں اہم ایکسچینجز کے لیے عبوری لائسنس، مائننگ، ٹوکنائزیشن اور فنٹیک کے پائلٹ پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند برس میں مائننگ، ٹوکنائزیشن اور ویب3 ڈیولپمنٹ کے ذریعے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ پاکستان کے پاس 20 گیگاواٹ سے زائد اضافی بجلی موجود ہے جسے بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی کے ذریعے ڈیجیٹل ایکسپورٹ میں بدلا جا سکتا ہے۔ بٹ کوائن پاکستانیوں کے لیے بچت، مالی شمولیت اور بین الاقوامی ادائیگیوں کے مسائل کا موثر حل ہے۔
حکومتی وژن اورجامع اصلاحات پاکستان کی بٹ کوائن اور ڈیجیٹل معیشت کو ترقی کی نئی سمت دے رہی ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ڈیجیٹل معیشت بٹ کوائن ترقی کی کے لیے
پڑھیں:
کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
اگلےسال نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشن(crypto transactions) پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویز سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی مشاورت سےکرپٹوسیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانےکی تیاری کی جارہی ہے، اس اقدام کا مقصدکرپٹو سیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانا اورڈیجیٹل معیشت سےحاصل ہونے والے منافع کو ریگولیٹ کرنا ہے،آئی ایم ایف نے تمام ڈیجٹل کاروبار سے منافع پر ٹیکس عائد کا مطالبہ کیا تھا۔
مجوزہ پلان کےتحت انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سےمتعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کی جائے گی،کرپٹو ٹریڈنگ سےحاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کےدائرے میں آسکتا ہے۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےبھی کرپٹو صارفین پرٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کی تجاویزدی ہیں،جبکہ صارفین کی تعداد،ٹرانزیکشنزاورٹیکس میکانزم کےلیےایک خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےکرپٹوصارفین پر ٹیکس اقدامات تجویزکیے،کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزکشنز اور ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
مزید پڑھیں:27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
ورچوئل اثاثوں کو لیگل قراردےکرڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانےکافیصلہ کیاگیا، روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکےورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہوگی،پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج ہوسکے گی۔