مدھیہ پردیش کے ضلع ستنا میں بی جے پی کی ایک کونسلر کے شوہر پر ایک خاتون کے ساتھ چاقو کے زور پر زیادتی، واقعے کی ویڈیو بنانے اور بعد ازاں اسی ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کر کے بار بار جنسی تعلق پر مجبور کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔

متاثرہ خاتون کے مطابق، ملزم نے نہ صرف زیادتی کی بلکہ واقعے کی ویڈیو موبائل فون پر ریکارڈ کر کے اسے جان سے مارنے اور خاندان کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دیں، جس کے باعث وہ طویل عرصے تک خاموش رہنے پر مجبور رہی۔

ملزم کی شناخت اشوک سنگھ کے نام سے ہوئی ہے جو رام پور باگھیلان نگر پریشد کی بی جے پی کونسلر کا شوہر ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں مبینہ طور پر اشوک سنگھ کو ایک پولیس اہلکار سے بدتمیزی کرتے اور متاثرہ خاتون کو دھمکاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے مدھیہ پردیش: بی جے پی رہنما کی نابینا خاتون سے بدسلوکی، ویڈیو وائرل

وائرل ویڈیو میں ملزم کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے
’میرا کیا ہوگا؟ کچھ نہیں ہوگا۔ جہاں شکایت کرنی ہے کر لو، میرا کچھ نہیں بگڑے گا۔‘

پس منظر میں خاتون کو روتے ہوئے شکایت درج کرانے کی بات کرتے سنا جا سکتا ہے۔

متاثرہ خاتون نے گزشتہ پیر کے روز تحریری شکایت سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ستنا، ہنس راج سنگھ کو دی، جس میں بتایا کہ یہ واقعہ تقریباً 6 ماہ قبل پیش آیا تھا، مگر جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باعث وہ خاموش رہی۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ نے فوری طور پر تفتیش ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منوج تریویدی کے سپرد کر دی۔

یہ بھی پڑھیے ہندی سیکھو ورنہ نکل جاؤ، بی جے پی کونسلر کی غیر ملکی کوچ کو سرعام دھمکی

خاتون کے مطابق، اشوک سنگھ، جو گاؤں کارہی کا رہائشی ہے، اس کے گھر میں داخل ہوا، چاقو کے زور پر زیادتی کی، ویڈیو بنائی اور خاموش رہنے پر مجبور کیا۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ 20 دسمبر کو ملزم نے دوبارہ اس سے بدتمیزی کی اور ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر اپنی خواہشات پوری کرنے کا مطالبہ کیا۔

متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم کا مجرمانہ پس منظر ہے اور اسے ماضی میں ضلع بدر بھی کیا جا چکا ہے، جس کی وجہ سے وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔

خاتون نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ملزم باقاعدگی سے اس کی دکان پر آ کر گالم گلوچ کرتا ہے اور دھمکیاں دیتا ہے، جس سے خوف اور ہراسانی کی فضا قائم ہے۔

پولیس کی مبینہ عدم کارروائی

متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ 5 روز قبل پولیس سے رجوع کرنے کے باوجود تاحال کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں آئی، اور اسے اپنی اور اپنے خاندان کی جان کا شدید خطرہ لاحق ہے۔

اس نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسے یا اس کے اہل خانہ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہو گی۔

پولیس حکام کے مطابق، وائرل ویڈیو کی صداقت کی جانچ کی جا رہی ہے اور تمام شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم خبر فائل کیے جانے تک کسی گرفتاری کی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت بی جے پی مدھیہ پردیش.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بی جے پی مدھیہ پردیش متاثرہ خاتون بی جے پی یہ بھی

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل