امریکی ویزا کے حصول کیلئے بھارتی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
بھارت میں H-1B ویزا کے حصول کے خواہش مند شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ ویزا انٹرویوز اور اپائنٹمنٹس میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اس تاخیر کے باعث بڑی تعداد میں بھارتی شہری طویل عرصے سے اپنے ہی ملک میں پھنسے ہوئے ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اعتراف کیا ہے کہ اپائنٹمنٹس کے بحران نے متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کو سنگین مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال کئی ماہ سے برقرار ہے اور حکومت اس مسئلے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا کی جانب سے ویزا اسکریننگ کے عمل کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جس میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو پبلک کرنے کی شرط، بھاری فیس، اور نئے انتخابی معیار شامل ہیں۔ ان اقدامات نے بھارتی درخواست گزاروں کے لیے H-1B ویزا کا حصول مزید مشکل بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیںامریکی ویزا پروگرام کیلئے نئی فیس کا اطلاق، 20 امریکی ریاستوں نے صدر پر مقدمہ دائر کردیا
امریکی ویزا مسترد ہونے کی وجہ سے خاتون ڈاکٹر نے خودکشی کر لی
دلچسپ امر یہ ہے کہ خود بھارتی حکومت اور میڈیا ان افراد کو ’’H-1B ویزا ہولڈرز جو بھارت میں پھنسے ہیں‘‘ کے الفاظ سے مخاطب کر رہے ہیں، جو اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت کا ہنرمند اور تعلیم یافتہ طبقہ اپنے بہتر مستقبل کے لیے بیرونِ ملک مواقع کو ترجیح دے رہا ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی ہجرت کی خواہش بھارت کے اندر معاشی اور سماجی اعتماد کے بحران کی واضح علامت ہے۔
ماہرین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا بھارتی شہری اب اپنے ملک کو طویل المدتی مستقبل کے لیے محفوظ اور پُرکشش سمجھتے بھی ہیں یا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔