افغانستان میں ادویات کا بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں ادویات کی شدید قلت اور غیر معیاری دواؤں کی دستیابی کے باعث لاکھوں افراد کی صحت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر بچوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔

افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر پابندی کے بعد ملک میں دواؤں کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس پابندی کے نتیجے میں معیاری ادویات نایاب ہو چکی ہیں جبکہ بازار میں غیر معیاری اور مہنگی دواؤں کی بھرمار ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں

طالبان حکومت کے بعد افغانستان کی معیشت تباہ ہوگئی، اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ

طالبان نے منشیات اور شراب اسمگلنگ پر 11 مجرمان کو سرِ عام کوڑے مارے؛ قید کی سزائیں بھی

افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشت گرد ہمارے شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، فیلڈ مارشل

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ناقص ادویات کے غیر مؤثر ثابت ہونے کے باعث کئی مریض اسمگل شدہ دوائیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جو صحت عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے بیماریوں میں اضافہ اور اموات کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے کے بعد طالبان حکومت نے پاکستان سے آنے والی ادویات کی درآمد روک دی تھی، جس کے براہِ راست اثرات عام شہریوں پر پڑ رہے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ادویات کی درآمد اور کوالٹی کنٹرول کے نظام کو فوری طور پر بہتر نہ کیا گیا تو افغانستان کو مستقبل میں ایک بڑے اور مہلک صحت کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ادویات کی کے مطابق

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق