افغانستان میں ادویات کا شدید بحران، لاکھوں زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
افغانستان میں ادویات کا بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں ادویات کی شدید قلت اور غیر معیاری دواؤں کی دستیابی کے باعث لاکھوں افراد کی صحت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر بچوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔
افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر پابندی کے بعد ملک میں دواؤں کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس پابندی کے نتیجے میں معیاری ادویات نایاب ہو چکی ہیں جبکہ بازار میں غیر معیاری اور مہنگی دواؤں کی بھرمار ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیںطالبان حکومت کے بعد افغانستان کی معیشت تباہ ہوگئی، اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ
طالبان نے منشیات اور شراب اسمگلنگ پر 11 مجرمان کو سرِ عام کوڑے مارے؛ قید کی سزائیں بھی
افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشت گرد ہمارے شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، فیلڈ مارشل
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ناقص ادویات کے غیر مؤثر ثابت ہونے کے باعث کئی مریض اسمگل شدہ دوائیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جو صحت عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے بیماریوں میں اضافہ اور اموات کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے کے بعد طالبان حکومت نے پاکستان سے آنے والی ادویات کی درآمد روک دی تھی، جس کے براہِ راست اثرات عام شہریوں پر پڑ رہے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ادویات کی درآمد اور کوالٹی کنٹرول کے نظام کو فوری طور پر بہتر نہ کیا گیا تو افغانستان کو مستقبل میں ایک بڑے اور مہلک صحت کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹویورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔
یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔
کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔
انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔