ایرانی صدر نے معاشی بہتری کے لیے 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے 20 نکاتی منصوبے پر عمل پیرا ہے۔یہ منصوبہ مختلف معاشی کمیٹیوں اور اداروں کے سامنے پیش کیا گیا ہے تاکہ مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کیا جا سکے۔
ہفتے کے روز دفترِ تحفظ و اشاعتِ آثارِ رہبرِ انقلاب اسلامی کی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر پزشکیان نے داخلی امور کے ساتھ ساتھ ایران مخالف بیانات اور پروپیگنڈے پر بھی کھل کر بات کی۔
امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے امکان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صدر نے کہا کہ ایرانی افواج اسلحے اور افرادی قوت کے لحاظ سے مکمل طور پر تیار ہیں اور پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہیں، تاکہ کسی بھی شرپسندانہ اقدام کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے ایرانی صدر پزشکیان کا دورہ پاکستان، سی پیک میں شمولیت، تجارتی ہدف بڑھانے کی خواہش ظاہر کردی
صدر پزشکیان نے ایک بار پھر قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے عوام کا متحد رہنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا:
’اگر ہم سب ایک ساتھ اور متحد رہیں تو دشمن ہمارے ملک پر حملے کا سوچنے کی بھی جرات نہیں کرے گا۔‘
انہوں نے جون میں ایران کے خلاف ہونے والی 12 روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت کے دوران قوم کے اتحاد اور یکجہتی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں حکومتی امور معمول کے مطابق چلتے رہے اور عوام و حکام کے درمیان مکمل تعاون اور ہم آہنگی موجود تھی۔
ایران کو کمزور دکھانے کے لیے کی جانے والی نفسیاتی جنگ پر بات کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ دشمنوں کی میڈیا مہمات کسی نتیجے تک نہیں پہنچیں گی۔
’وہ اپنی خیالی دنیا میں رہیں، انہوں نے ہمیں اسی غلط فہمی کے تحت نشانہ بنایا، مگر اس کا نتیجہ اندرونی اتحاد میں اضافے کی صورت میں نکلا۔‘
انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ’کوئی طاقت اس قوم کو شکست نہیں دے سکتی جو متحد ہو‘۔
یہ بھی پڑھیے جوہری تنصیبات پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ دوبارہ تعمیر کریں گے، ایرانی صدر کا اعلان
صدر نے کہا کہ ان کے نزدیک کسی بھی فوجی طاقت سے بڑھ کر اہم چیز قومی اتحاد، اختلافات کو پسِ پشت ڈالنا اور مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔
صدر پزشکیان نے ملکی معیشت، آئندہ سال کے بجٹ اور عوام کو درپیش مالی مشکلات پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے 20 نکاتی منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کو مختلف معاشی کمیٹیوں اور اداروں کے سامنے پیش کیا گیا ہے تاکہ کرنسی، اشیائے ضروریہ، مہنگائی اور دیگر متعلقہ مسائل پر مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کیا جا سکے۔
ایرانی صدر کا 20 نکاتی معاشی منصوبہ کیا ہے؟ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے معاشی منصوبے کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:
یہ منصوبہ بنیادی طور پر عوامی زندگی میں بہتری، مہنگائی پر قابو اور معاشی استحکام کے گرد گھومتا ہے۔
1.مہنگائی میں کمی
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا، غریب اور متوسط طبقے پر بوجھ کم کرنا۔
2. کرنسی (ریال) کی قدر میں استحکامزرِ مبادلہ کی منڈی میں بے یقینی ختم کرنا، غیر ضروری قیاس آرائیوں (Speculation) پر قابو پانا۔
3. اشیائے ضروریہ کی فراہمیخوراک، ادویات اور ایندھن کی دستیابی یقینی بنانا، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف کارروائی۔
4. عوامی آمدن میں بہتریتنخواہوں اور اجرتوں میں حقیقت پسندانہ توازن قائم کرنا اور کم آمدن والے طبقات کے لیے ریلیف۔
5. سماجی تحفظ کے پروگرامسبسڈی کو ہدف (Targeted) بنانا، مستحق خاندانوں کی براہِ راست مدد
6. بجٹ اصلاحاتغیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی، وسائل کا بہتر اور شفاف استعمال۔
7. داخلی پیداوار کا فروغمقامی صنعتوں اور زراعت کی حوصلہ افزائی، درآمدات پر انحصار کم کرنا۔
8. روزگار کے مواقعنوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی مدد۔
9. بین الادارہ جاتی ہم آہنگیمختلف معاشی اداروں اور کمیٹیوں کے درمیان تعاون، پالیسی میں تضادات ختم کرنا۔
10. شفافیت اور احتسابمالی بدعنوانی کے خلاف اقدامات، عوامی اعتماد کی بحالی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
20 نکاتی معاشی منصوبہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 20 نکاتی معاشی منصوبہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان صدر پزشکیان نے ایرانی صدر انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔