Nawaiwaqt:
2026-07-24@03:17:44 GMT

اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر شمشاد اختر انتقال کرگئیں

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر شمشاد اختر انتقال کرگئیں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون گورنر  ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کر گئیں۔ڈاکٹر شمشاد اختر کا انتقال حرکت قلب بند ہونے کے باعث ہوا،  وہ کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں تھیں جب انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ 2 جنوری 2006 کو اسٹیٹ بینک کی 14ویں گورنر بننے والی ششماد اختر کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر کراچی میں ادا کی جائے گی۔شمشاد اختر پاکستان اسٹاک ایکسچینج بورڈ کی چیئر پرسن تھیں ، وہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون کی مشیر بھی رہ چکی ہیں ۔شمشاد اختر حیدر آباد میں پیدا ہوئیں، ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد میں حاصل کی، پنجاب یونیورسٹی سے 1974 میں بی اے اکنامکس اور قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی اکنامکس کیا۔انہوں نے یونیورسٹی آف سسیکس سے 1977میں ڈیولپمنٹ اکنامکس میں ایم اے اور برطانیہ میں پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے 1970 میں معاشیات میں ڈاکٹریٹ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار