’براہ کرم شہرت کیلئے کسی اور کو ڈھونڈیں‘ پولیس یونیفارم تنازع پر صبا قمر کا دوٹوک مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ عالمی شہرت یافتہ اداکارہ صبا قمر نے اپنا نام استعمال کر کے سستی شہرت حاصل کرنے والوں کو کرارا جواب دے دیا۔
حالیہ دنوں میں صبا قمر کے خلاف پولیس یونیفارم بغیر اجازت پہننے پر مقدمہ درج کرنے کے لیے ایک درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر اداکارہ نے بالآخر اپنا دوٹوک مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔
فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر انہوں نے اسٹوری شیئر کرتے ہوئے اس خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔
اس کے ساتھ ہی اداکارہ نے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو ارسال کی گئی درخواست بھی شیئر کی، جو 31 ستمبر 2021 کو لاہور آپریشنز کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے نام لکھی گئی تھی۔
اس درخواست میں ’پاکستان کی امیج کی بہتری کے مقصد سے ڈی جی پی آر پنجاب پروجیکٹ‘ کے لیے پولیس یونیفارم خریدنے اور استعمال کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔
صبا قمر نے اس پٹیشن کو شہرت کا استعمال کرتے ہوئے ’پبلسٹی‘ کا ذریعہ قرار دیا، اور ناقدین سے کہا کہ ’براہ کرم شہرت کے لیے کسی اور کو ڈھونڈیں‘۔
اداکارہ نے کہا کہ ’آج میرے پاس جو کچھ ہے وہ محنت کا نتیجہ ہے۔
ناقدین کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’اپنے سفر پر توجہ مرکوز رکھیں، کیونکہ آپ کا وقت آئے گا‘۔
واضح رہے کہ صبا قمر کا یہ ردعمل اس درخواست کے بعد سامنے آیا ہے جو لاہور کی مقامی عدالت میں دائر کی گئی تھی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اداکارہ نے متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت حاصل کیے بغیر پولیس یونیفارم پہنا، جو سرکاری یونیفارم کے استعمال سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
درخواست گزار وسیم زوار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس ویڈیو میں صبا قمر ایک ڈریسنگ روم میں پولیس کی وردی پہن کر ایس پی رینک کا بیج لگا کر نظر آ رہی ہیں۔
ان کا مؤقف تھا کہ پولیس یونیفارم پہننے کے لیے متعلقہ پولیس حکام سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنا ضروری ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس سے قبل اولڈ انار کلی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دی گئی تھی، تاہم اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پولیس یونیفارم اداکارہ نے گئی تھی کے لیے کی گئی
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔