data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا براہِ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قتل ایک منظم سازش کے تحت کروایا گیا۔

 کراچی میں پارٹی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ عمران فاروق کو ان کی سالگرہ کے دن قتل کروایا گیا اور یہ سب الطاف حسین کے حکم پر ہوا، عمران فاروق نے چار دہائیوں تک ایم کیو ایم کے لیے کام کیا مگر اسی جماعت کے سربراہ نے انہیں راستے سے ہٹوا دیا۔

 انہوں نے الزام لگایا کہ قتل کے بعد الطاف حسین نے نہ صرف دکھاوے کا سوگ منایا بلکہ لاش اور بعد میں مرحوم کی اہلیہ کی میت کے نام پر دنیا بھر سے چندہ بھی جمع کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم خود کو بے وسیلہ ظاہر کرتا رہا حالانکہ اس کے پاس لاکھوں پاؤنڈ موجود تھے،  تکیے اور دفاتر سے بھاری رقوم نکلنے کے باوجود عمران فاروق کی اہلیہ کے لیے معمولی رقم تک فراہم نہیں کی گئی،قتل کے بعد طویل عرصے تک مرحوم کے اہلِ خانہ سے کوئی رابطہ نہیں رکھا گیا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ خود عمران فاروق کے قتل کے بعد پارٹی کی جانب سے لندن گئے تھے اور انہوں نے بہت سی باتیں خاموشی سے برداشت کیں، نمازِ جنازہ کے موقع پر بھی بانی ایم کیو ایم کا رویہ افسوسناک تھا اور وہاں عبادت سے زیادہ تصاویر بنوانے پر توجہ دی گئی۔

انہوں نے بانی ایم کیو ایم کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس شخص نے مہاجر قوم کو شدید نقصان پہنچایا اور کراچی کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا، اگر ماضی میں آئینی حقوق کے لیے حقیقی جدوجہد کی جاتی تو مسائل بہت پہلے حل ہو سکتے تھے، مگر ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ برطانوی تفتیشی اداروں کو بھی ابتدا ہی میں معلوم تھا کہ قتل کے پیچھے کون ہے، اسی لیے عمران فاروق کے بچوں کو طویل عرصے تک منظرِ عام سے دور رکھا گیا۔ انہوں نے عمران فاروق کے بچوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے والد کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالت سے رجوع کریں اور خاموشی کو اپنی کمزوری نہ بننے دیں۔

مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا کہ وہ عمران فاروق کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں، کراچی کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا، ایم کیو ایم پاکستان شہر کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بانی ایم کیو ایم عمران فاروق کے الطاف حسین انہوں نے کمال نے کے قتل کے لیے قتل کے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار