40 کروڑ کی پیشکش کیوں ٹھکرادی تھی؛ سنیل شیٹی کی پہلی بار لب کشائی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
بالی ووڈ کے ایکشن ہیرو سنیل شیٹی نے اپنے کیریئر میں کئی بلاک بسٹر فلمیں دی ہیں وہ رومانوی ہیرو اور کامیڈی اداکاری میں بھی مداحوں کا دل جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔
اداکار سنیل شیٹی کی پہلی شناخت ایک مضبوط ڈیل ڈول رکھنے والے فائٹرز ہیرو کی رہی ہے۔ وہ اپنی فلموں میں ولن کا بھرتا نکالتے نظر آتے ہیں۔
سنیل شیٹی کی ترجیح ہوتی تھی کہ وہ خطرناک اسسٹنٹ مناظر بھی خود فلم بند کروائیں اور اس کوشش میں وہ متعدد بار زخمی بھی ہوئے۔
ان ایکشن سین کی وجہ سے وہ نوجوانوں میں کافی مقبول تھے اور انھیں زیادہ تر ایسے ہی کرداروں میں پسند کیا جاتا رہا ہے۔
سنیل شیٹی بھی اپنے مداحوں بالخصوص نوجوانوں کے لیے ہمیشہ ایک رول ماڈل بننا چاہتے تھے جس کا انھوں نے عملی مظاہرہ 40 کروڑ کی پیشکش کو ٹھکرا کر کیا تھا۔
اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے حالیہ انٹرویو میں اداکار نے انکشاف کیا کہ تمباکو کے معروف برانڈ کے اشتہار میں کام کرنے کے لیے 40 کروڑ روپے کی آفر ہوئی تھی۔
سنیل شیٹی نے بتایا کہ اُس وقت نوجوان مجھے فالو کرتے تھے، میرا اسٹائل اپناتے تھے اس لیے میں نے سگریٹ کا اشتہار کرنے سے منع کردیا تھا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اگر میں اشتہار میں سگریٹ نوشی کرتا نظر آتا تو نوجوان بھی اس شوق کو اپناتے اور کہیں کوئی کسی بری لت میں نہ پڑے جائے، اس لیے میں اشتہار نہیں کیا۔
سنیل شیٹی نے کہا کہ میں خود بھی سگریٹ نہیں پیتا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتا ہوں اس لیے وہ اشتہار نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سنیل شیٹی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔