پاکستان نے حالیہ دنوں میں امریکی تعلقات میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط کر لیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت کابل ائیرپورٹ حملے کے مرکزی ملزم محمد شریف اللہ کی گرفتاری اور اسے امریکا کے حوالے کرنے سے ممکن ہوئی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب میں کھل کر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اسے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے تعلقات میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، جس سے پاکستان نے خود کو ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے بھارت کے برعکس سفارتی راستہ اختیار کیا اور واشنگٹن میں مؤثر لابنگ کے ذریعے ٹرمپ کے قریبی مشیروں کی توجہ حاصل کی۔ جنرل عاصم منیر کے وائٹ ہاؤس دورے کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی، جسے امریکی صدر نے سراہا۔ مزید برآں، پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی اہمیت کو اجاگر کیا، خاص طور پر خلیجی ممالک اور سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات کی بنیاد پر۔ امریکہ کے ساتھ 6 ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی وسائل کے معاہدے نے بھی پاکستان کی عالمی اہمیت بڑھائی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی ہے، لیکن کمزور معیشت اور علاقائی عدم استحکام مستقبل میں ممکنہ چیلنجز کے طور پر موجود رہیں گے۔ یہ پیشرفت عالمی سطح پر بھی پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کرتی نظر آ رہی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ ملک نے سفارتی محاذ پر موثر حکمت عملی اختیار کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان نے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ