آن لائن واردات کرنے والے منظم گروہوں کے خلاف سی سی ڈی کونئی ذمہ داری دیے جانے کا فیصلہ 

تفصیلات کے مطابق آن لائن اور الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے والوں  کے خلاف کاروائی کا اختیار سی سی ڈی کو تفویض کیا جا رہا ہے۔ 

حکومت پنجاب سی سی ڈی کو آن لائن اور الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے عوام کو لوٹنے والے منظم گروہوں کےخلاف کاروائی کا ٹاسک سونپ رہی ہے ۔ فیصلہ آن لائن اور الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے معصوم شہریوں کو لوٹنے کی وارداتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔

معصوم شہری آن لائن وارداتوں کے ذریعے زندگی بھر کی کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ تنخواہ دار اور کاروباری طبقہ ان ملزمان کا آسانی سے نشانہ بن رہے ہیں۔

یہ ملزمان بےنظیر انکم سپورٹ حاصل کرنے والوں کو بھی لوٹ لیتے ہیں ۔ یہ لوگ شارٹ ٹرم اغوا برائے تاوان کی کاروائیاں بھی کرتے ہیں مگر انکے خلاف مقدمات کا اندراج بھی نہیں ہوتا۔ 

سی سی ڈی عوام کی جمع پونجی لوٹنے والے ان ملزمان کے خلاف بھرپور ایکشن کرے گی۔ آن لائن وارداتوں کے ذریعے ان ملزمان نے اربوں روپے کے اثاثے بھی بنا رکھے ہیں۔

آن لائن فراڈ کرنے والے  منظم جرائم پیشہ افراد کی جائیدادوں کی قرقی کے لیے بھی قانونی کاروائی کی جائے گی۔ حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ منشیات فروشوں کے خلاف سی سی ڈی کے حالیہ تاریخی آپریشن کی کامیابی کے بعد کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سی سی ڈی کو کے ذریعے آن لائن کے خلاف

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت