ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے کے قائل نہیں، حکومت بھی رویہ بدلے: فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ملتان (نامہ نگار خصوصی ) جمعیت علماءاسلام کے قائدمولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آج ایک بار پھر مدارس کی بقاءکا سوال پیدا ہوگیا ہے۔عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں میں مدرسے کیخلاف ایک تسلسل ہے،اس بات پر متفق ہیں کہ ریاست کیخلاف ہتھیار نہ اٹھائے جائیں لیکن ریاست بھی اپنے رویوں میں تبدیلی لائے۔ مدرسے نہیں حکومتی رویے سے شدت پیدا ہوتی ہے، ہم جبر کی دو تہائی اکثریت اورجمہوریت کو نہیں مانتے۔ علماءانبیاءکے وارث ہیں‘ جمعیت کی پشت کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ہم نے عملی میدان میں کام کرنا ہے، گھروں میں بیٹھ کر کچھ نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ قاسم العلوم گلگشت ملتان میں فضلاءکنونشن سے خطاب کے دوران کیا ۔مفتی تقی عثمانی، مولانا اسعدمحمود‘ قاری حنیف جالندھری ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہمیں شدت پسند کہا جاتا ہے‘مدرسہ شدت پسندی کا سبب نہیں ہے اور نہ ہی انتہا پسندی کا سبب ہے۔ہم ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے کے قائل نہیں ہیں،آج ایک بار پھر مدارس کی بقا کا سوال پیدا ہوگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔