لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبہ پنجاب نے ترقی، فلاح اور بہتر طرزِ حکمرانی کی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ پنجاب حکومت کی سالانہ کارکردگی عوامی اعتماد، شفافیت اور زمینی حقائق پر مبنی منصوبہ سازی کا عملی ثبوت ہے۔ مریم نواز نے ایک سال میں 90 فلیگ شپ منصوبے شروع کیے جو نہ صرف کاغذوں سے نکل کر عملی شکل اختیار کر چکے ہیں بلکہ عوام براہِ راست ان منصوبوں سے مستفید بھی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان، طلبائ، مزدور، نوجوان اور خواتین سمیت معاشرے کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی نے پنجاب کو دیگر صوبوں کی نسبت ترقی کے سفر میں سب سے آگے کر دیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکٹرک بسیں، گرین ٹرین، الیکٹرک بائیکس، ستھرا پنجاب، اپنی چھت اپنا گھر، آسان کاروبار اور کسان کارڈ مریم نواز شریف کے ایسے فلیگ شپ پروگرام ہیں جنہوں نے سہولت، روزگار، تعلیم، ٹرانسپورٹ، ماحولیات اور معاشی بہتری کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ انہی منصوبوں کی بدولت پنجاب آج خدمات، اصلاحات اور پائیدار ترقی میں دیگر صوبوں پر سبقت رکھتا ہے۔ سہیل آفریدی محترم مہمان ہیں اور پنجاب حکومت مہمان نوازی، سیاسی شائستگی اور احترام کی روایت پر قائم ہے، تاہم ان کی گفتگو اور انداز میں مناسب سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ ہونا چاہیے تھا جو افسوس کے ساتھ نظر نہیں آیا۔ ہم مثبت سیاست اور عملی کارکردگی پر یقین رکھتے ہیں، جھوٹ، الزام تراشی اور غیر سنجیدہ بیانات پر نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی جی پی آر میں پنجاب حکومت کی سالانہ کارکردگی پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025ءاپنے اختتامی مرحلے میں ہے اور یہ سال پنجاب کی ترقی، عوامی فلاح اور سیاسی استحکام کا سال ثابت ہوا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت کو قومی و بین الاقوامی سطح پر تحسین ملی، جس سے صوبے کی مثبت شناخت مزید مضبوط ہوئی۔ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔ جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مو ثر کارروائیاں ہوئیں اور منشیات فروش نیٹ ورکس کو توڑا گیا۔ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید ساز و سامان، ڈرون ٹیکنالوجی، اینٹی ڈرون سسٹمز، تھرمل ڈیوائسز اور آپریشنل گاڑیاں فراہم کی گئیں تاکہ اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ پنجاب میں ڈرون ٹیکنالوجی کو پہلی بار جائے وقوعہ تک فوری رسائی، ثبوت جمع کرنے اور آپریشنل معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ کچے کے علاقوں میں آپریشنز کے لیے خصوصی بکتر بند گاڑیاں خریدی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کچے کا علاقہ مکمل طور پر کلیئر ہونے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور جرائم پیشہ عناصر کا کوئی ٹھکانہ محفوظ نہیں رہے گا۔ ”ستھرا پنجاب پروگرام“ کے تحت لاہور کے قدیم ویسٹ ڈپو ’لکھو ڈیر‘ کو ویسٹ ٹو انرجی زون میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں پچاس میگاواٹ کا پاور پلانٹ لگایا جائے گا جو صوبے میں کچرے سے توانائی کے حصول کا پہلا بڑا قدم ہو گا۔ بیوہ خواتین، اقلیتوں اور کم آمدن شہریوں کی فراہمی کو خصوصی ترجیح دی گئی، جو پاکستان کے سماجی تحفظ کے نظام میں قابل تقلید مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو نئے مرحلے میں داخل کیا جا رہا ہے، جہاں فیصل آباد میں اورنج اور ریڈ لائن منصوبے اور گوجرانوالہ کو میٹرو نیٹ ورک سے جوڑنے کا اعلان، شہری آمدورفت میں اہم تبدیلی لائے گا۔ آسان کاروبار سکیم کے تحت چھ ماہ میں اربوں روپے کے بلاسود قرضے دئیے گئے، جن میں خواتین اور نوجوانوں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ طلباءکو لیب ٹاپ اور سکالرشپ تقسیم کی جا رہی ہیں۔ 1500 الیکٹرک بسیں پورے پنجاب میں چل رہی ہیں،1 لاکھ 26 ہزار گھر "اپنی چھت اپنا گھر پروگرام" کے تحت بن رہے ہیں۔کسان کارڈ کے تحت 250 ارب دیئے جا چکے ہیں۔گرین ٹریکٹر اور سپر سیڈر تقسیم کیے گئے ہیں۔ نوازشریف کینسر ہسپتال جنوری میں اپنا کام شروع کرنے جا رہا ہے جبکہ سرگودھا کارڈیالوجی ہسپتال میں کام شروع ہو چکا ہے، جلد مریم نواز اسکا افتتاح کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا جس سے صوبے میں چھوٹے کاروبار اور روزگار کے مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نواز شریف کینسر ہسپتال، سرگودھا کارڈیالوجی ہسپتال، میڈیکل ڈسٹرکٹ لاہور اور رحیم یار خان و نارووال میں نئے برن یونٹس کا افتتاح نئی صحت پالیسی کی بنیاد ہوں گے، جبکہ 43 سو بچوں کی کامیاب دل کی سرجریز پنجاب کے علاج معالجے کے شعبے میں تاریخی سنگ میل ہیں۔ تاہم کچھ غیر سنجیدہ گفتگو اور نامناسب زبان نے افسوس پیدا کیا۔ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں بدتمیزی، دھکم پیل اور ناشائستہ زبان نے جمہوری ماحول کو داغدار کیا، جبکہ حکومت نے ہر سطح پر ضبط اور شائستگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جرنلسٹ ہاو سنگ سوسائٹی فیز ٹو کی سکروٹنی کمیٹی اپنا کام مکمل کر رہی ہے، جس کے بعد وزیر اعلیٰ الاٹمنٹ لیٹرز جاری کریں گی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مریم نواز جا رہا ہے کے تحت

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان