پہلی بار وہیل چیئر استعمال کرنے والی خاتون کی خلا میں کامیاب پرواز
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
جرمنی کی معذور خاتون، جو اسپائنل کارڈ انجری کے باعث وہیل چیئر استعمال کرتی ہیں، نے بلو اوریجن کے نئے شپ ہپ نیو شیپارڈ راکٹ کے ذریعے خلا میں پرواز کر کے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا۔ یہ فلائٹ تقریباً 10 منٹ کی تھی اور اس دوران مسافر کَرمن لائن کو عبور کرتے ہوئے خلا کے سرحدی خط کو پار کر گئے۔
Astronaut Michaela "Michi" Benthaus, who suffered a spinal cord injury after a mountain biking accident in 2018, just made history as the first person using a wheelchair to travel to space.
— ABC News (@ABC) December 23, 2025
جرمنی کی ماہر ایرو اسپیس اور میکاٹرونکس انجینئر، میکیلا بینت ہاؤس، جو یورپی اسپیس ایجنسی سے تعلق رکھتی ہیں، نے اپنے خواب کی تعبیر پائی اور اپنی وہیل چیئر پیچھے چھوڑ کر خلا میں تیرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ دنیا معذور افراد کے لیے اب بھی کس حد تک غیر موافق ہے اور ہمیں ہر حصے میں شمولیتی سوچ اپنانی چاہیے۔
نیو شیپارڈ راکٹ، جو امریکی ارب پتی جیف بیزوس کی کمپنی بلو اوریجن کے زیر انتظام ہے، 8:15 صبح (GMT 1415) ٹیکساس کے مقام سے لانچ ہوا۔ راکٹ عمودی طور پر اڑا اور مسافروں والا کیپسول پرواز کے دوران الگ ہو کر پیراشوٹ کی مدد سے زمین پر واپس اترا۔
یہ بھی پڑھیں:خلا بازوں نے ریاضی میں حیران کن دریافت کرلی، یہ زمین پر کیوں ناممکن تھی؟
یہ بلو اوریجن کی اس پرواز نے کئی برس سے اسپیس ٹورزم کے تجربات فراہم کیے ہیں۔ اس فلائٹ کے دوران دیگر مشہور مسافر بھی شامل تھے، اور کمپنی کا مقصد عوامی دلچسپی برقرار رکھنا اور ایلون مسک کی اسپیس ایکس کے مقابلے میں مارکیٹ میں حصہ لینا ہے۔
بلو اوریجن نے اس سال مدار پر 2 غیر عملے والی پروازیں بھی کامیابی سے انجام دی ہیں، جن میں نیو گلین راکٹ استعمال ہوا، جو نیو شیپارڈ سے کافی زیادہ طاقتور ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خلا میکاٹرونکس انجینئر وہیل چیئر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خلا میکاٹرونکس انجینئر وہیل چیئر
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔