سٹی42: ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کے ہمراہ شہر بھر میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے دودھ اور گوشت کی بڑی مقدار کی چیکنگ کی، مختلف علاقوں میں کارروائی کے دوران 90 ہزار لیٹر دودھ اور 75 ہزار کلو گوشت کا معائنہ کیا گیا۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے بتایا کہ گجومتہ، ٹھوکر نیاز بیگ اور اڈا پلاٹ سے لاہور سپلائی ہونے والا دودھ چیک کیا گیا، جس دوران 5 ہزار 500 لیٹر پاؤڈر اور کیمیکلز سے تیار کیا گیا ملاوٹی دودھ تلف کر دیا گیا۔ اسی طرح 640 کلو بیمار اور کم وزن مرغیاں اور گوشت بھی تلف کیا گیا، جو نزلہ اور دیگر امراض میں مبتلا پائے گئے۔

برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں کمی

کارروائی کے دوران 25 میٹ شاپس اور ملک سپلائرز کو مجموعی طور پر 2 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق ویٹرنری سپیشلسٹس نے برآمد شدہ بیمار مرغیوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔

عاصم جاوید نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں تین شفٹوں میں شہر بھر میں اشیائے خورونوش کی مسلسل چیکنگ کر رہی ہیں اور شہریوں کو معیاری و محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھا جائے گا۔
 
 

 کنٹریکٹ اور ایڈہاک ڈاکٹرز کی تعیناتیاں ختم کرنے کا اعلان  

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 فوڈ اتھارٹی کیا گیا

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا