محبت یا ذہنی دباؤ؟ پالتو کتے کی بیماری پر دو بہنوں کی خودکشی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
بھارت کے شہر لکھنو میں پالتو کتے کی بیماری کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار دو بہنوں نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ واقعہ لکھنو کے علاقے ڈوڈا کھیڑا جلال پور میں پیش آیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جاں بحق ہونے والی بہنوں کی شناخت 26 سالہ رادھا سنگھ اور 22 سالہ جیا سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسپتال سے اطلاع ملی تھی کہ دونوں بہنوں نے فینائل پی کر اپنی جانیں لے لیں، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں۔
پولیس نے اہلِ خانہ سے پوچھ گچھ کے بعد بتایا کہ دونوں بہنوں نے حال ہی میں ایک کتے کو گود لیا تھا اور وہ اس سے بے حد محبت کرتی تھیں۔ دونوں بہنیں کتے کی دیکھ بھال بھی باقاعدگی سے کر رہی تھیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق دونوں بہنیں پہلے ہی ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ بڑی بہن رادھا سنگھ ٹی بی کی بیماری کے باعث ڈپریشن میں مبتلا تھی، جبکہ چھوٹی بہن جیا سنگھ 2014 سے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہی تھی۔
گھر والوں نے بتایا کہ پالتو کتا گزشتہ ایک ماہ سے شدید بیمار تھا، جس کی وجہ سے دونوں بہنوں کا ذہنی دباؤ مزید بڑھ گیا اور انہوں نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی زندگیاں ختم کر لیں۔
پولیس کے مطابق دونوں لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے جبکہ واقعے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔