کیا پھیلتی کائنات دوبارہ سکڑنے لگی ہے؟ نئی سائنسی پیشرفت نے سائنسدانوں کو حیرت میں ڈال دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
سائنسدانوں کے درمیان اس وقت ایک بڑی بحث جاری ہے، جب حالیہ شواہد سے یہ اشارہ ملا ہے کہ ڈارک انرجی یعنی وہ پراسرار قوت جو کائنات کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے، وقت کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوا تو وقت اور خلا سے متعلق ہماری موجودہ سائنسی سمجھ بوجھ کو شدید چیلنج درپیش ہو سکتا ہے۔
ماہرینِ فلکیات طویل عرصے سے یہ سمجھتے رہے ہیں کہ بگ بینگ کے بعد شروع ہونے والا کائنات کا پھیلاؤ، ڈارک انرجی کی وجہ سے ہمیشہ جاری رہے گا۔ 1998 میں سپرنووا ستاروں کے مشاہدات سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کی رفتار میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، جس سے ‘بگ رِپ’ جیسے نظریات سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھیے: کائنات کے راز کھولنے والا انقلابی آلہ ’فروسٹی‘ تیار کرلیا گیا
تاہم مارچ میں امریکا کی ریاست ایریزونا میں نصب ڈارک انرجی اسپیکٹروسکوپک انسٹرومنٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا نے اس تصور کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس ڈیٹا سے اشارہ ملا کہ کہکشاؤں کی رفتارِ پھیلاؤ وقت کے ساتھ بدل رہی ہے، جو روایتی کونیاتی ماڈلز کے خلاف ہے۔
نومبر میں جنوبی کوریا کی یونسی یونیورسٹی کے پروفیسر ینگ ووک لی کی سربراہی میں ایک تحقیق شائع ہوئی، جس میں سپرنووا ڈیٹا کا نئے انداز سے تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار سست ہو رہی ہے، جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ڈارک انرجی کمزور پڑ رہی ہے۔
اگر ایسا ہوا تو کششِ ثقل دوبارہ غالب آ سکتی ہے اور کہکشائیں ایک دوسرے کی جانب کھنچنے لگیں گی، جس کے نتیجے میں کائنات کا اختتام ‘بگ کرنچ’ پر ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کائناتی طوفان کی تصویر حیرت انگیز صف بندی کا نتیجہ ہے، ناسا
اگرچہ کئی ماہرین ان نتائج پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن اب تک ان دعوؤں کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکا۔ اس موضوع پر سینکڑوں تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں اور ماہرین منقسم ہیں، تاہم اس بحث کو کائنات کے آغاز اور انجام کو سمجھنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Dark Energy ڈارک انرجی سائنس کائنات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈارک انرجی کائنات ڈارک انرجی کائنات کے رہی ہے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔