چین کی انسان جیسی خصوصیات رکھنے والی اے آئی سروسز پر نگرانی سخت کرنے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
چین کے سائبر ریگولیٹر نے ہفتے کے روز مسودہ قواعد عوامی رائے کے لیے جاری کیے ہیں، جن کے تحت انسان جیسی شخصیت کی نقل کرنے اور صارفین کے ساتھ جذباتی رابطہ قائم کرنے والی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سروسز پر نگرانی مزید سخت کی جائے گی۔
اس اقدام کو بیجنگ کی جانب سے صارفین کے لیے متعارف کرائی جانے والی اے آئی ٹیکنالوجی کے تیزی سے پھیلاؤ کو محفوظ اور اخلاقی حدود میں رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چیٹ جی پی ٹی صارفین کیا تلاش کرتے ہیں؟ اوپن اے آئی کا بڑا انکشاف
مجوزہ قواعد ان اے آئی مصنوعات اور سروسز پر لاگو ہوں گے جو چین میں عوام کے لیے پیش کی جاتی ہیں اور جن میں انسانی شخصیت، سوچنے کے انداز اور گفتگو کے طریقوں کی نقل شامل ہو۔ یہ سروسز متن، تصاویر، آڈیو، ویڈیو یا دیگر ذرائع کے ذریعے صارفین کے ساتھ جذباتی سطح پر تعامل کرتی ہیں۔
مسودے کے مطابق اے آئی فراہم کرنے والوں کو صارفین کو حد سے زیادہ استعمال کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہوگا اور اگر صارف میں انحصار یا لت کی علامات ظاہر ہوں تو بروقت مداخلت کرنا لازمی ہوگا۔ قواعد کے تحت سروس فراہم کنندگان پر پورے پروڈکٹ لائف سائیکل کے دوران حفاظتی ذمہ داریاں عائد کی جائیں گی، جن میں الگورتھمز کا جائزہ، ڈیٹا سیکیورٹی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے نظام قائم کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’اے آئی‘ ٹیکنالوجی کے استعمال سے روزگار کے کون سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں؟
مزید برآں، مجوزہ ضوابط ممکنہ نفسیاتی خطرات کو بھی ہدف بناتے ہیں۔ اے آئی سروسز فراہم کرنے والوں کو صارفین کی ذہنی کیفیت، جذبات اور سروس پر انحصار کی سطح کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر کسی صارف میں شدید جذباتی ردعمل یا نشے جیسا رویہ پایا جائے تو فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
قواعد میں مواد اور طرزِ عمل سے متعلق واضح حدود بھی مقرر کی گئی ہیں، جن کے تحت ایسی کسی بھی اے آئی مواد کی اجازت نہیں ہوگی جو قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالے، افواہیں پھیلائے یا تشدد اور فحاشی کو فروغ دے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہےکہ پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی۔لاہور میں معروف ہدایت کارہ سنگیتا کی نئی فلم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عظمٰی بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز سنیما انڈسٹری کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہیں، نوجوان نسل کو ٹچ اسکرین سے نکال کر سنیما کی طرف لائیں گے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ہم اچھے ڈرامے بنالیتےہیں تو اچھی فلم کیوں نہیں بناسکتے، اچھے ڈراموں کے ساتھ اچھی فلمیں بھی بنانا ہوں گی، نوجوان ہدایت کار فلمی دنیا میں نئی سوچ لے کر آئیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے فلمی دنیا کو نئی سمت دی ہے، فلم کسی مخصوص طبقے کے لیے نہیں ہونی چاہیے، اچھے موضوعات پر معیاری فلمیں بناناہوں گی۔
پاکستان کی پرائیویٹ حج سکیم کے 3 منظمین کی پہلی،دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے کی خوشی میں مکہ مکرمہ میں اظہار تشکر کی تقریب
ان کا کہنا تھا کہ پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، فلموں کے ذریعے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کیا جاسکتا ہے، فلم سٹی منصوبے میں تمام جدید سہولیات فراہم کریں گے، جو نوجوان فلم اور ڈرامہ پڑھ کر آرہے ہیں انہیں بھی موقع ملےگا۔
مزید :