چین کے سائبر ریگولیٹر نے ہفتے کے روز مسودہ قواعد عوامی رائے کے لیے جاری کیے ہیں، جن کے تحت انسان جیسی شخصیت کی نقل کرنے اور صارفین کے ساتھ جذباتی رابطہ قائم کرنے والی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سروسز پر نگرانی مزید سخت کی جائے گی۔

اس اقدام کو بیجنگ کی جانب سے صارفین کے لیے متعارف کرائی جانے والی اے آئی ٹیکنالوجی کے تیزی سے پھیلاؤ کو محفوظ اور اخلاقی حدود میں رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چیٹ جی پی ٹی صارفین کیا تلاش کرتے ہیں؟ اوپن اے آئی کا بڑا انکشاف

مجوزہ قواعد ان اے آئی مصنوعات اور سروسز پر لاگو ہوں گے جو چین میں عوام کے لیے پیش کی جاتی ہیں اور جن میں انسانی شخصیت، سوچنے کے انداز اور گفتگو کے طریقوں کی نقل شامل ہو۔ یہ سروسز متن، تصاویر، آڈیو، ویڈیو یا دیگر ذرائع کے ذریعے صارفین کے ساتھ جذباتی سطح پر تعامل کرتی ہیں۔

مسودے کے مطابق اے آئی فراہم کرنے والوں کو صارفین کو حد سے زیادہ استعمال کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہوگا اور اگر صارف میں انحصار یا لت کی علامات ظاہر ہوں تو بروقت مداخلت کرنا لازمی ہوگا۔ قواعد کے تحت سروس فراہم کنندگان پر پورے پروڈکٹ لائف سائیکل کے دوران حفاظتی ذمہ داریاں عائد کی جائیں گی، جن میں الگورتھمز کا جائزہ، ڈیٹا سیکیورٹی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے نظام قائم کرنا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’اے آئی‘ ٹیکنالوجی کے استعمال سے روزگار کے کون سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں؟

مزید برآں، مجوزہ ضوابط ممکنہ نفسیاتی خطرات کو بھی ہدف بناتے ہیں۔ اے آئی سروسز فراہم کرنے والوں کو صارفین کی ذہنی کیفیت، جذبات اور سروس پر انحصار کی سطح کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر کسی صارف میں شدید جذباتی ردعمل یا نشے جیسا رویہ پایا جائے تو فوری اقدامات کیے جائیں گے۔

قواعد میں مواد اور طرزِ عمل سے متعلق واضح حدود بھی مقرر کی گئی ہیں، جن کے تحت ایسی کسی بھی اے آئی مواد کی اجازت نہیں ہوگی جو قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالے، افواہیں پھیلائے یا تشدد اور فحاشی کو فروغ دے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے لیے اے آئی

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی