Juraat:
2026-06-02@22:04:34 GMT

کراچی کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار،عوام آگ بگولہ

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

کراچی کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار،عوام آگ بگولہ

جیسے جیسے 2025 اختتام کو پہنچ رہا ہے شہر کا نامکمل انفراسٹرکچر اور تاخیری منصوبے صحت عامہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں
کھوکھلے وعدوں کے سائے میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بند گٹر، بڑھتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں اضافہ کردیا ہے

جیسے جیسے 2025اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کراچی کا نامکمل انفراسٹرکچر اور تاخیر کا شکار منصوبے صحت عامہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، کھوکھلے وعدوں کے سائے میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بند گٹر، اور بڑھتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں اضافہ کردیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کے دوران بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے شعبے میں دعوں اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح فرق دیکھا گیا، سندھ حکومت 2025 میں بھی کئی اہم منصوبوں کو مکمل کرنے میں ناکام رہی، ایک بڑا منصوبہ قیوم آباد سے کراچی میں M-9موٹروے تک بھٹو ہائی وے کی تعمیر تھا۔سندھ حکومت کے اعلان کے مطابق یہ منصوبہ دسمبر 2025 تک مکمل ہونا تھا تاہم مقررہ مدت میں کام مکمل نہیں ہو سکا، نومبر کے آخری ہفتے میں ہونے والی میٹنگ میں وزیر اعلی سندھ کو بتایا گیا کہ قیوم آباد سے قائد آباد تک ہائی وے کو کھول دیا گیا جب کہ M-9 موٹروے تک بمشکل 65 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔اسی طرح سندھ حکومت لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹائزیشن کے منصوبے پر کئی سالوں سے کام کر رہی ہے لیکن 2025 میں بھی کام مکمل نہیں ہو سکا۔ جنوری 2024 میں بورڈ آف ریونیو نے اس وقت کی نگراں حکومت کو آگاہ کیا کہ اگلے چھ ماہ کے اندر ریونیو ریکارڈ آف رائٹس کو ڈیجیٹائز کر کے ای رجسٹریشن اور ای میوٹیشن سسٹم سے منسلک کر دیا جائے گا۔بورڈ آف ریونیو نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ پورے صوبے کے سٹی سروے ریکارڈ کو چھ ماہ کے اندر ڈیجیٹل کر دیا جائے گا۔ تاہم 2025 میں بھی یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا۔ اس کے ساتھ ساتھ، تقریبا 40 سال گزرنے کے بعد بھی، سندھ حکومت کراچی کے ایک بڑے ہاسنگ پروجیکٹ ہاکس بے اسکیم 42 میں ترقیاتی کام کروانے میں ناکام رہی ہے، اور یہی صورتحال 2025 میں بھی برقرار رہی۔ یہ منصوبہ 1984 میں شروع کیا گیا تھا اور 6000 ایکڑ پر محیط تھا۔تاہم بجلی اور پانی کی فراہمی سمیت ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ تاحال اپنے گھر تعمیر کرنے سے قاصر ہیں، اس منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ دار لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 2025 میں اعلان کیا تھا کہ وہ پلاٹ ہولڈرز کو لیز جاری کر رہی ہے لیکن سال گزرنے کے باوجود یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا۔علاقائی منصوبہ ساز ڈاکٹر سید نواز الہدی نے کہا کہ کراچی میں جاری میگا پراجیکٹس کے حوالے سے وفاقی اور سندھ حکومتوں کا غیر متوازن رویہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ ڈاکٹر الہدی نے کہا کہ "پانی، سیوریج اور ماس ٹرانزٹ سے متعلق منصوبوں کا اعلان دو دہائیاں قبل کیا گیا تھا، لیکن ان کا تعمیراتی کام تاخیر سے شروع ہوا، اور اب ان کی تکمیل میں بھی افسر شاہی رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ اصولی طور پر، یہ تمام منصوبے مقامی حکومتوں کے اداروں کی نگرانی میں ہونے چاہئیں، جو براہ راست عوام کے سامنے جوابدہ ہوں۔عوامی شکایات کو ہوا دینے کے علاوہ ترقیاتی کاموں میں سست روی نے بھی صحت کی بیماریوں میں اضافے کو اکسایا ہے۔ جناح اسپتال میں کان ناک اور گلے کے شعبہ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق ڈوگر نے بتایا کہ نامکمل ترقیاتی منصوبوں نے گردوغبار کو جنم دیا، جس سے کراچی میں فضائی آلودگی بڑھ گئی، جس سے فلو، الرجی اور سانس کی دیگر بیماریوں میں 30 سے 35 فیصد اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ نامکمل ترقیاتی منصوبے، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، اور ناقص سیوریج سسٹم سانس کے مسائل کی ایک بڑی وجہ ہیں، جو 90 فیصد شہر کو متاثر کر رہے ہیں۔ بند سیوریج لائنیں اور آلودہ ماحول جراثیم کو گھروں میں داخل ہونے دیتے ہیں، جو بچوں کو شدید متاثر کرتے ہیں اور کراچی میں صحت مند زندگی گزارنے کے حالات کو مشکل بنا دیتے ہیں۔سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بخاری نے تصدیق کی کہ کراچی میں گردو غبار کے باعث مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ "مریضوں کی بڑھتی ہوئی آمد کی وجہ سے ہسپتال میں آکسیجن کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ شہر کا نامکمل انفراسٹرکچر اور موسمی حالات صحت مند افراد کو بھی متاثر کر رہے ہیں، جب جسم میں آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے تو مناسب سطح کو برقرار رکھنے کے لیے آکسیجن کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بیماریوں میں نہیں ہو سکا سندھ حکومت کراچی میں رہے ہیں میں بھی رہی ہے

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار