2025 نیٹ فلکس کیلئے یادگار، متعدد سیریز نے دھوم مچا دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
بھارت (نیوزڈیسک)اس سال نیٹ فلکس پر کئی سیریز نے عالمی سطح پر تہلکہ مچا دیا۔
سال 2025 نیٹ فلکس کےلیےتاریخی ثابت ہوا،جہاں ’اسکوڈ گیم‘ (سیزن 3) اور ’وینز ڈے‘ (سیزن 2) جیسے میگاہٹس نے عالمی سطح پر ویوز کے تمام سابقہ ریکارڈ پاش پاش کر دیے۔
سسپنس کےشوقین افراد کےلیے’اسٹرینجر تھنگز‘کا فائنل سیزن اوربرطانوی کرائم سیریز ’ایڈولیسنس‘ (Adolescence) سرفہرست رہے،جبکہ ’جینی اینڈ جارجیا‘ کےتیسرے سیزن نےبھی اپنی مضبوط کہانی کی بدولت ناظرین کو سکرین سے جوڑے رکھا۔
جنوبی ایشیائی مواد کی بات کی جائے تو’دہلی کرائم‘ (سیزن 3) میں شیفالی شاہ کی جاندار اداکاری نے ایک بار پھر عالمی سطح پر دھوم مچائی،جبکہ’دی گریٹ انڈین کپل شرما شو‘ نیٹ فلکس پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا نان فکشن شو بن کر ابھرا۔
ان بلاک بسٹرسیریز کی بدولت سال 2025 کو عوامی مقبولیت کے لحاظ سےاسٹریمنگ پلیٹ فارمزکا کامیاب ترین سال قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔