سرینگر میں ریزرویشن مخالف مظاہرے سے قبل آغا سید روح اللہ مہدی سمیت دیگر قائدین خانہ نظربند
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ممبر پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے "ہاؤس اریسٹ" کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو لوگوں کو میرے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے اور نہ ہی اندر سے کسی کو باہر جانے کی اجازت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے آج سرینگر میں ریزرویشن مخالف مظاہروں کو ناکام بناتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کو گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی ہے۔ حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے کہا کہ سرینگر میں آج طے شدہ احتجاج سے قبل بڈگام میں ان کی رہائشگاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ سید روح اللہ نے ریزرویشن پالیسی کو معقول بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سرینگر کے پولو ویو پر واقع شیر کشمیر پارک میں ایک احتجاج اور دھرنا کا اعلان کیا تھا۔ وہ ریزرویشن سمیت دیگر مسائل پر عمر عبداللہ کی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آغا سید روح اللہ نے "ہاؤس اریسٹ" کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو لوگوں کو میرے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے اور نہ ہی اندر سے کسی کو باہر جانے کی اجازت ہے۔
اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آغا سید روح اللہ کے آفس ہینڈل نے ہاؤس اریسٹ کا دعویٰ کرتے ہوئے سنیچر کی رات بڈگام میں ان کے گھر کے باہر پولیس کی تعیناتی کی تصاویر پوسٹ کیں۔ ان کے آفس نے ایکس پر لکھا کہ رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی کی رہائشگاہ کے باہر مسلح پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ کیا یہ ایک پُرامن، طلبہ کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے کو خاموش کرنے کے لیے پیشگی کریک ڈاؤن ہے، اگر ہاں، تو اس سے اختلاف رائے سے (حکومت پر طاری) پریشان کن خوف کا پتہ چلتا ہے۔ حکام کو عوام کے سامنے اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ یہ تعیناتی کس لیے ہے۔ ہم اپنے کل کے منصوبے پر قائم ہیں۔
وہیں پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ کے قریبی ساتھی عارف امین نے بھی دعویٰ کیا کہ آدھی رات کو پرہ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ امین نے ایکس پر پوسٹ میں سوال کیا کہ طلباء کے حقوق کے لئے پُرامن احتجاج کو ویپنائز کیوں کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر حکومت یا ایل جی انتظامیہ نے ابھی تک ان رہنماؤں کی نظر بندی کے دعوؤں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ واضح رہے کہ آغا سید روح اللہ مہدی نے آج ایک احتجاج اور دھرنے کا اعلان کیا تھا جو سرینگر کے ایس کے پارک میں منعقد ہونا تھا اور جہاں طلباء اور ریزرویشن مخالف کارکنوں کی شرکت متوقع تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ا غا سید روح اللہ سید روح اللہ نے کی اجازت ہے کرتے ہوئے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔