لندن میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کے باہر ہندوؤں کی قیادت میں ہونے والے مظاہرے کو خالصتان تحریک سے وابستہ سکھوں نے کامیابی سے پسپا کر دیا، جس سے ہندو مظاہرین کا موقف کمزور اور تقسیم شدہ دکھائی دیا۔ سکھوں نے نہ صرف اپنے جھنڈے لہرا کر مضبوط پوزیشن اختیار کی بلکہ مظاہرین کے مطالبات کو دبا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:خالصتان تحریک اور مودی کا خوف

لندن میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کے باہر ہندوؤں کی جانب سے مظاہرے کو سکھوں نے کامیاب منصوبہ بندی کے ساتھ نشانہ بنایا، جس سے ہندو مظاہرین کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔

BIG BREAKING: ???? ???? ????

Pro Khalistan Sikhs, led by Paramjit Singh Pamma (SFJ) counter Pro India Hidutva protesters in front of the Bangladesh consulate in UK.

Khalistan stands with Bangladesh!! We will get justice for #HardeepSinghNijjar and #OsmanHadi and hold that terrorist… pic.twitter.com/JKIbEZFqWG

— Inderjeet Singh (@Warrior9Singh) December 27, 2025

یہ مظاہرہ بنگلہ دیش میں ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کے خلاف بڑھتی ہوئی تشدد کی عالمی توجہ مبذول کرانے کے لیے کیا گیا تھا۔ آزاد خالصتان کے حامی سکھوں نے بھارت مخالف نعرے لگائے اور اپنے جھنڈے لہرا کر مظاہرین کو منتشر کر دیا، جس سے مظاہرین کا موقف غیر مربوط اور کمزور نظر آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیشی ہائی کمیشن خالصتان سکھ لندن ہندو ہندو مظاہرین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیشی ہائی کمیشن خالصتان سکھ ہندو مظاہرین ہندو مظاہرین ہائی کمیشن سکھوں نے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن