گورنر سندھ نے پی ٹی آئی اوورسیز کا بیانیہ نفرت انگیز اور دہشت گردی قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کامران ٹیسوری نے اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو نفرت انگیز اور شرانگیز سرگرمیوں سے دور رکھیں اور ایسے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بننے دیں، پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے اور اب وہ مایوسی میں اس قسم کی حرکتیں کر رہی ہے، جس کی ہم سب شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے گورنر ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں کراچی کے مسائل اور وفاقی پیکج برائے کراچی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کراچی پیکج پر وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ گورنر سندھ نے لندن میں پی ٹی آئی کی جانب سے فیلڈ مارشل کے حوالے سے کی گئی مبینہ شرانگیز گفتگو پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف نفرت انگیز رویہ پی ٹی آئی اوورسیز کی جانب سے مسلسل پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب نو مئی کے واقعات سے پی ٹی آئی کو کوئی فائدہ نہ ہوا تو اب ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں، جو دہشت گردی اور اوورسیز پاکستانیوں کو اکسانے کے زمرے میں آتے ہیں۔
کامران ٹیسوری نے مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت اس معاملے کی فوری انکوائری کرائے اور یہ دیکھا جائے کہ کون لوگ برطانیہ کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کہا کہ برطانیہ اپنی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ گورنر سندھ نے اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو نفرت انگیز اور شرانگیز سرگرمیوں سے دور رکھیں اور ایسے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بننے دیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے اور اب وہ مایوسی میں اس قسم کی حرکتیں کر رہی ہے، جس کی ہم سب شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گورنر سندھ نفرت انگیز پی ٹی آئی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔