مظفر آباد میں کینسر ہسپتال سے مقامی سطح پر بہترین طبی سہولتیں میسرآئیں گی، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
مظفر آباد میں کینسر ہسپتال سے مقامی سطح پر بہترین طبی سہولتیں میسرآئیں گی، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 28 December, 2025 سب نیوز
مظفر آباد (آئی پی ایس )وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں کینسر کی تشخیص و علاج کیلئے ہسپتال کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں، مریضوں کے علاج کیلئے 24 گھنٹے سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔ وہ اتوار کو یہاں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن ، آنکو لوجی اینڈریڈیو تھراپی (کنور)کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور ، احسن اقبال ، رانا ثنا اللہ ، امیر مقام سمیت وفاقی وزرا کے علاوہ آزاد کشمیر کے ارکان اسمبلی ، چیئرمین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن ، پروفیسرز، سرجنز اور فیکلٹی ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت اور کینسر کی تشخیص و علاج کیلئے آزاد کشمیر میں بھی ہسپتال قائم کیا گیا ہے، اس سے بڑھ کر انسانیت کی کوئی خدمت ہو نہیں سکتی ، پہلے آزاد کشمیر کے مریضوں کو سینکڑوں میل کا سفر کرکے دور دراز کے شہروں میں جانا پڑتا تھا جو تکلیف دہ اور مہنگا تھا۔ انہوں نے اٹامک انرجی کمیشن اور ایس پی ڈی کے علاوہ مخیر حضرات اور ڈاکٹرز کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ہسپتال کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ خود بھی کینسر کے مریض رہے ہیں اور انکی مشکلات و تکالیف کا احساس ہے، لوگ اس مہنگے مرض کا علاج برداشت نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جدید وسائل اور ذرائع کو بروئے کار لاکر اس مرض کا شکار مریضوں کا علاج معالجہ کیا جائے اور تمام سہولیات کو 24 گھنٹے فعال رکھا جائے، مریضوں کیساتھ ایسا رویہ ہو کہ انہیں حوصلہ ملے اور ان کو علاج کیلئے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے تختی کی نقاب کشائی کرکے ہسپتال و میڈیکل کالج کا افتتاح کیا۔
وزیر اعظم نے ہسپتال کے مختلف شعبوں اور نصب مشینری کا بھی معائنہ کیا۔ انہیں مرض کی تشخیص و علاج معالجے کی سہولیات کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ پہلے آزاد کشمیر میں کینسر کے علاج کیلئے کوئی سہولت دستیاب نہیں تھی اور مریض دور دراز کا سفر کرکے دوسرے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور تھے، ہر سال کینسر کے ایک ہزار اور دس ہزار مریض فالو اپ کیلئے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ، چیئرمین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن راجا علی رضا انور نے اپنے استقبالیہ کلمات میں وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ایٹمی توانائی کمیشن کے کینسر کے علاج کے لیے 21 ہسپتال کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک وفاق ، 6 پنجاب ، 5 خیبر پختونخوا ، 5 سندھ ایک ایک بلوچستان ، گلگت بلتستان و آزاد کشمیر میں ہے، سالانہ دس لاکھ مریضوں کا علاج کرتے ہیں ، 60 فیصد مریض آخری سٹیج کے ہوتے ہیں، اس ہسپتال کے قیام سے مقامی سطح پر علاج ممکن ہوگا ۔ انہوں نے معاونت پر حکومت پاکستان و آزاد جموں و کشمیر ، ایس پی ڈی اور شراکت داروں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ڈی جی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی رافیل ماریانو گروسی نے تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینسر کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ، 2050 تک ان میں 75 فیصد اضافے کا خدشہ ہے ، دنیا میں ایک کروڑ سے زائد مریض اس مرض کا شکار ہیں ، آزاد کشمیر میں کینسر کے علاج کے لیے ہسپتال کا قیام اہم سنگ میل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربرطانیہ میں سکھ کمیونٹی کا بنگلادیش کی حمایت میں بھارت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ برطانیہ میں سکھ کمیونٹی کا بنگلادیش کی حمایت میں بھارت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ ہماری ریاست کسی کیلئے خطرہ نہیں،افغان وزیر داخلہ کا پاکستان سے مفاہمت کا اشارہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کی حمایت کرے، فیصل کریم کنڈی بھارت کے ساتھ سب برابری کی سطح پرہوگا، وہ ہینڈشیک نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ، محسن نقوی سی سی ڈی آن لائن فراڈ کرنے والوں کیخلاف کارروائی کریگی سہیل آفریدی کو لاہور میں نعروں کا جواب دینے والا کوئی نہیں ملا، عظمی بخاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں کینسر
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔