اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نے کہا ہے پاکستان جسے کبھی ”سفارتی طور پر تنہا“ قرار دیا جاتا تھا، موجودہ حکومت کی متحرک پالیسیوں کے باعث آج عالمی برادری میں سفارتی، سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط اور نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اہم عالمی امور پر پاکستان کے فعال، اصولی اور مضبوط مو قف کو عالمی فورمز پر سراہا گیا اور اسے تسلیم کیا گیا۔ پاکستان کے اصولی مو قف کے باعث عالمی برادری میں اس کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔ ہفتہ کے روز وزارتِ خارجہ کی سالانہ کارکردگی اور کردار پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈارنے کہا کہ اہم عالمی امور پر پاکستان کے فعال، اصولی اور مضبوط مو قف کو عالمی فورمز پر سراہا گیا اور اسے تسلیم کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے پر قومی میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب پی ڈی ایم حکومت قائم ہوئی تو پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا ملک سمجھا جاتا تھا، مگر اب عالمی برادری میں پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ کے مطابق بھارت کے ساتھ چار روزہ مسلح تصادم کے دوران خطے میں بھارتی بالادستی اور خود کو سکیورٹی فراہم کرنے والا قرار دینے کا دعویٰ آزمایا گیا اور ناکام ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت نے جھوٹا الزام پاکستان پر عائد کیا۔ وزارتِ خارجہ متحرک رہی اور اب ملک کا دفاع مضبوط اور مستحکم ہے۔ بھارتی جارحیت کے دوران پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا کیونکہ وہ ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور میزائل قوت نے ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب توجہ پاکستان کو معاشی طاقت بنانے پر ہے اور اس مقام کے حصول کے بعد امتِ مسلمہ کی قیادت بھی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، معدنیات، قیمتی پتھروں اور گیس سمیت بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہے ، ریکوڈک جیسے منصوبوں کے ذریعے اورمختلف صورتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آ رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات فوجی گروپ میں کچھ حصص حاصل کرے گا، جس سے ایک ارب ڈالر کے واجبات طے ہونے کی توقع ہے، جبکہ دو ارب ڈالر کے قرض کی مدت میں بھی توسیع ممکن ہے۔ انہوں نے پاکستان کے مالی استحکام میں تعاون پر مملکتِ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کا شکریہ ادا کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ جب تک مسئلہ جموں و کشمیر حل نہیں ہوتا، خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پاکستان نے بھارت کے غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیرقانونی اقدامات کے خلاف بھرپور احتجاج کیا اور اس مسئلے کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات ہوئی۔ کشمیریوں کی شمولیت سے استصوابِ رائے ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو او آئی سی، مستقل ثالثی عدالت اور اقوام متحدہ میں بھرپور انداز میں اٹھا رہا ہے اور رپورٹس پاکستان کے مو قف کے حق میں ہیں، انہوں نے اس سال بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری کو ”اہم پیش رفت“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیرسگالی کا ماحول بنا ہے اور فروری کے انتخابات کے بعد روابط مزید بڑھائے جائیں گے۔ امریکہ سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات کبھی عروج اور کبھی زوال کا شکار رہے، تاہم جو بائیڈن کے سابقہ دور میں روابط محدود تھے جبکہ حالیہ انتظامیہ میں تجارت، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں جبکہ انسدادِ دہشت گردی میں تعاون بھی مضبوط ہوا ہے۔ نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں امریکہ نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ 13.

28 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان پر عائد امریکی ٹیرف جنوبی ایشیا میں کم ترین سطح پر ہے۔ انہوں نے ترکیہ، او آئی سی رکن ممالک، چین، یورپی یونین، آسیان، اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور روس سمیت مختلف ممالک اور فورمز پر پاکستان کی قیادت کی شرکت اور ملاقاتوں کا ذکر کیا، جہاں معاشی، دفاعی اور سرمایہ کاری کے متعدد معاہدے طے پائے۔ انہوں نے غزہ میں امن اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے پاکستان کے اصولی مو قف اور کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق مکالمہ، روابط، علاقائی استحکام، معاشی تعاون اور امن کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستون ہیں جو قومی مفادات سے ہم آہنگ ہیں۔ اسحاق ڈار نے برطانیہ میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے بارے میں کہا کہ یہ سراسر اشتعال انگیزی تھی، جس میں قتل کی دھمکیاں دی گئیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی حکومت کو ایسی کارروائیوں کی روک تھام کیلئے ذمہ داری ادا کرنی چاہیے اور اس حوالے سے برطانیہ کو ڈیمارش دینا درست اقدام تھا۔ انہوں نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کے حوالے سے طالبان حکومت کے غیر تسلی بخش ردعمل پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ سارک کے فعال کردار میں رکاوٹ ڈالنے والا واحد ملک بھارت ہے، جو افسوسناک امر ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں میں شریک نہیں۔ عسکری و سول قیادت کی اس معاملے پر بڑی وضاحت ہے۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان اسحاق ڈار نے پاکستان کے بھارت کے اور اس

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار