Islam Times:
2026-07-24@04:34:26 GMT

آپریشن سندور بھارت کا فخر بن گیا، نریندر مودی

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

آپریشن سندور بھارت کا فخر بن گیا، نریندر مودی

بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ کھیلوں کے لحاظ سے بھی 2025ء ایک یادگار سال رہا، ہماری کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتی۔ خواتین کی کرکٹ ٹیم نے پہلی بار ورلڈ کپ جیتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے آج اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام "من کی بات" کی 129ویں قسط جاری کی۔ بھارتی وزیراعظم نے اس قسط میں 2025ء کی "کامیابیوں" سمیت مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء بہت سے لمحات لے کر آیا جس پر ملک کو فخر ہے، اس سال انجام دیا گیا آپریشن سندور قوم کا فخر بن گیا۔ من کی بات کے 129ویں ایڈیشن میں نریندر مودی نے کہا کہ اس سال "آپریشن سندور" ہر بھارتی کے لئے فخر کی علامت بن گیا، دنیا نے واضح طور پر دیکھا کہ آج کا بھارت اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا، آپریشن سندور کے دوران ملک کے لئے محبت اور عقیدت کی تصاویر دنیا کے کونے کونے سے ابھریں اور یہی جذبہ "وندے ماترم" کے 150 سال پورے ہونے پر نظر آیا۔

بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ کھیلوں کے لحاظ سے بھی 2025ء ایک یادگار سال رہا، ہماری کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتی۔ خواتین کی کرکٹ ٹیم نے پہلی بار ورلڈ کپ جیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی بیٹیوں نے ویمنز بلائنڈ T20 ورلڈ کپ جیت کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ عالمی چیمپئن شپ میں متعدد تمغے جیت کر پیرا ایتھس نے یہ ثابت کر دیا کہ کوئی بھی مضبوط عزم کو نہیں روک سکتا۔ نریندر مودی نے مزید کہا کہ بھارت نے سائنس اور خلا کے شعبوں میں بھی بڑی پیش رفت کی ہے۔ شوبھانشو شکلا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچنے والے پہلے بھارتی بن گئے ہیں۔ 2025ء میں ماحولیاتی تحفظ اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق کئی اقدامات بھی کیے گئے تھے۔ بھارت میں چیتوں کی تعداد اب 30 سے ​​تجاوز کر چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کرکٹ ٹیم نے نے کہا کہ

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت