خیبر پختونخوا سے فوج چلی جائے تو پی ٹی آئی دو دن صوبہ نہیں سنبھال سکتی، گورنر کے پی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
فیصل کریم کنڈی کا پشاور پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیاسی فیصلوں کا حل سیاسی طریقے سے ہی نکالا جانا چاہیے اور ہماری کوشش ہے کہ تمام سیاسی معاملات مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے طے ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، فوج صوبے سے نکلے تو دو دن بھی صوبہ نہیں سنبھال سکتے۔ پشاور پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ناگزیر ہیں، صوبائی حکومت کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبے میں امن نہیں ہوگا تو کاروبار اور معیشت کیسے چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی فیصلوں کا حل سیاسی طریقے سے ہی نکالا جانا چاہیے اور ہماری کوشش ہے کہ تمام سیاسی معاملات مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے طے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کو ہم نے ایک میز پر بٹھایا کیونکہ ملک کو اس وقت انتشار نہیں بلکہ استحکام کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا نے کہا
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔